
یہ بات اب طشت از بام ہورہی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے اہل کشمیر کی جدوجہد میں قیادت اور نمائندگی کرنے والے رہنمائوں کو ایک کے بعد ایک راستے سے ہٹانے کے منصوبے پر بڑی سرعت کیساتھ عملدرآمد جاری ہے۔05اگست 2019 میں مودی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کی تو اسے قبل ہی تمام آزادی پسند رہنمائوں کو گرفتار کرکے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی دور دراز جیلوں میں قید کیا گیا،جہاں وہ تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔حالانکہ بھارت نظر بندوں سے متعلق جنیوا کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہیں،جس کی موجودگی میں وہ نظر بندوں کو جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہے ،مگر بھارت جو خود کو دنیا کی سب بڑی جمہوریت کا دعوی کرتا ہے،جمہوری قدروں سے کوسوں دور ہے ،خاص کر جب بات مقبوضہ جموں وکشمیر اور اہل کشمیر کی ہو۔بھارت سب کچھ بھول جاتا ہے ۔سب سے پہلے غلام محمد بٹ ساکن کولنگام ہندواڑہ دسمبر 2019 میں بھارتی ریاست اترپردیش کی پراگیہ راج نینی تال جیل میں طویل عرصے تک طبی امداد سے محرومی کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرگئے۔انہیں جولائی2019 میں بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے پہلے سرینگر سینٹرل جیل منتقل کیا گیا تھا، بعدازاں انہیں مقبوضہ وادی کشمیر سے باہر بھارتی ریاست اترپردیش لیجانے کا فیصلہ بھارتی وزارت داخلہ نے کیا۔ غلام محمد بٹ کے گھروالوں کو ان کے علیل ہونے سے بے خبر رکھا گیا اور پھر اچانک 12 دسمبر 2019 میں جیل حکام نے اہلخانہ کو ان کی وفات کی خبر سنادی۔شہید بٹ کا تعلق جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر سے تھا۔معاملہ غلام محمد بٹ کی شہادت تک ہی محدود نہیں رہا ،بلکہ تحریک آزادی کشمیر کے ایک قدر آور رہنما اور اپنے لخت جگر بیٹے سمیت کئی شہدا کے وارث جناب محمد اشرف صحرائی بھی 05مئی 2021 میں جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں ایک برس تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد خالق حقیقی سے جاملے۔انہیں اس وقت ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ،جب ان کی جان میں سانسیں باقی نہیں رہی تھیں۔اس پر مستزاد یہ کہ جناب صحرائی کی میت رات کے اندھیروں میں ان کے آبائی علاقہ لولاب پہنچائی گئی اور گھروالوں کو بندوق کے بل پر خاموشی سے ان کی تدفین کرنے پر مجبور کیا گیا۔یاد رہے کہ 77 برس کے جناب محمد اشرف صحرائی کے بیٹے جنید صحرائی نے معاشیات کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور پھر جام شہادت نوش کرگئے تھے۔ بیٹے کی شہادت کے فورا بعد جولائی 2021میں محمد اشرف خان صحرائی کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا تھا۔وہ تقریبا نصف صدی تک جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کیساتھ وابستہ رہے اور تحریک آزادی کے بطل حریت سید علی گیلانی کے دست راست تھے۔04 اکتوبر 2022میں بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں الطاف احمد شاہ بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے،مگر ان کا نہ علاج و معالجہ کرایا گیا اور نہ ہی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جیل سے رہا کیاگیا،تاکہ وہ خود بہتر علاج کراتے،جس کا اظہار ان کے گھروالوں نے کیا تھا۔وہ 2017 سے تہاڑ جیل میں قید کرکے رکھے گئے تھے۔ان کا بڑا جرم یہ بھی تھا کہ وہ سید علی گیلانی کے داماد تھے۔ہزاروں کشمیری نوجوان بھی بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔
حال ہی میں تحریک آزادی کشمیر کے قدآور رہنما شبیر احمد شاہ جو تہاڑ جیل میں قیدو بند کی زندگی بسر کررہے ہیں،پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوچکی ہے۔جناب شاہ اپنی زندگی کے 32 برس سے زائد عرصہ بھارتی جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ انسانی حقو ق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل انہیں ضمیر کا قیدی قرار دے چکی ہے۔ان کے اہلخانہ بالخصوص اہلیہ اور بیٹیوں کو ان سے ملنے نہیں دیاجاتا۔ان کی اہلیہ ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ان کی بیٹی سوشل میڈیا کی وساطت سے اپنے والد کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کی اپیل کرچکی ہیں،مگر مجال ہے کہ مودی اور اس کے حواریوں پر کوئی اثر ہویا ان کی انسانی حس جاگ جائے۔جناب شاہ مسلسل تہاڑ جیل میں قید علاج سے یکسر محروم ہیں،مگر وہ کوئی آہو بکا نہیں کررہے ہیں۔جو ان کے قد کاٹ میں اضافہ اور مود ی جیسے انسانیت دشمن شخص کے سامنے زندگی کی بھیک نہ مانگنے کا جرات اظہار ہے ۔اسی تہاڑجیل میں قید ایاز محمد اکبر کی اہلیہ کینسر میں مبتلا تھیں اور وہ بھی اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ چکی ہیں۔ایاز اکبر نے کوئی چیخ وپکار نہیں کی اور نہ ہی رہائی کی بھیک مانگی۔وہ پیرول پر رہائی کا حق رکھتے تھے۔امیر حمزہ کے والد بھی حال ہی وفات پاگئے،اور بیٹا زندان میں ہیں۔خاتوں رہنما آسیہ اندرابی سمیت کئی کشمیری خواتین بھی شدید جسمانی مسائل سے دوچار ہیں۔مگر زبان سے اف تک نہیں کررہی ہیں۔امیر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض بھی جیل میں علیل ہیں،وہ کافی عرصے سے Thyroidکی بیماری کے شکار ہیں۔البتہ وہ علاج سے محروم رکھے گئے ہیں۔اب گزشتہ تین برسوں سے سینٹرل جیل سرینگر میں قید ایک اور حریت رہنما بلال صدیقی کی گرتی ہوئی صحت پر ڈاکٹروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بلال صدیقی گردوں میں انفیکشن اوردیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔وہ شدید درد کے باعث چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں ۔حالانکہ ایک مقامی معالج خبردار کرچکے ہیں کہ علاج کی عدم فراہمی کے نتیجے میں ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔محمد یاسین ملک کئی برسوں سے دل کے مریض ہیں۔بیشتر کشمیری نظر بند رہنما 50یا 60 کی عمر میں ہیں۔اس عمر میں باضابطہ چیک آپ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔لیکن کشمیری نظر بند علاج و معالجہ تو دور کوئی معمولی سہولت بھی انہیں میسر نہیں ہے۔جو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔کشمیری آزادی پسند کوئی عادی مجرم نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اس ظالمانہ سلوک کے مستحق ہیں۔وہ اپنے عوام کیلئے اس حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں،جس کا وعدہ بھارتی حکمران پوری دنیا کو گواہ ٹھہرا کر اہل کشمیر کیساتھ کرچکے ہیں۔اقوام متحدہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کیلئے ایک یا دو نہیں بلکہ ڈیڑھ درجن کے قریب قراردادیں منظور کرچکی ہے۔جو ہنوز عملدر آمد کی منتظر اور اہل کشمیر اپنے حق خود ارادیت کیلئے لاکھوں قربانیاں دے چکے ہیں اور آج بھی قربانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔جس سے بھارتی حکمران انکار اور اہل کشمیر کے سینے گولیوں سے چھلنی کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ بھارتی حکمران اپنی تمام تر وحشتوں اور بربریت کے باوجود اہل کشمیر کو تحریک آزاد ی کشمیر سے دستبردار کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔جو قوم لاکھوں قربانیوں کی امین ہو ،اس قوم کو کیسے گرفتاریوں،تشدد،ماردھاڑاور ان کے رہنمائوں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید کرنے سے ڈرایا جاسکتا ہے ۔بھارتیوں سے زیادہ کون اس بات سے واقف ہیں کہ انہیں انگریزوں سے آزاد ی کی لرائی لڑنا پڑی۔جب انگریز بھارتیوں کو اپنا غلام بنائے نہیں رکھ سکے،تو بھارت یا مودی اہل کشمیر کو ان کے حق خود ارادیت سے باز یا محروم کیسے رکھ سکتے ہیں۔دنیا کا مروجہ اصول ہے کہ طاقت ہی سرچشمہ حیات نہیں ہے۔دنیا کے ہر ظالم اور سرکش کو عوامی قوت کے سامنے سرنگوں ہونا پڑا ۔مودی نہ صحیح کسی دوسرے بھارتی حکمران کو بھی اہل کشمیر کی مزاحمت اور عوامی قوت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔مودی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جمہوری معاشرے قتل و غارت پر پروان نہیں چڑھائے جاتے ۔کسی بھی قوم کو 78برس زیر کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔بھارتی حکمرانوں نے اہل کشمیر کو بھی زیر کرنے کیلئے تمام حربے اور ہتھکنڈے آزمائے،مگر ذلت ورسوائی اور ناکامی کے سوا انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا ۔جب ایک قوم اپنی آزادی اور بقا کی جنگ لڑنے کا تہیہ کرچکی ہو۔اس قوم کو پھر ایک نہیں سو مودی بھی نہیں ہراسکتے ۔اہل کشمیر اپنی قربانیوں کو نہ ماضی میں بھولے،نہ آج بھولتے ہیں ا ور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔یہ قربانیاں اہل کشمیر کے ہر فرد کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ قوموں کی تواریخ میں سینکڑوں برس بھی آزادی کے حصول کیلئے جدوجہد میں صرف اور مثالیں موجود ہیں۔قیادت کو پابہ زندان بھی رکھا جاچکا ہے۔ثابت قدمی اور صبر و استقامت نے ہمیشہ انہی اقوام اور قیادت کو درست ٹھہرایا ہے،جو اپنے نصب العین کیساتھ چٹان کی مانند وابستہ رہے۔جس کا عملی مظاہر ہ سید علی گیلانی نے کیا،تو کبھی محمد اشرف صحرائی ان کی عملی میراث کے مصداق ٹھہرے۔آج شبیر احمد شاہ اور ان کے دوسرے احباب بھی مودی کے اعصاب پر مکمل طور پر سوار آنے والی نسلوں کیلئے عزم و ہمت کی تاریخ چھوڑ کر جارہے ہیں۔







