”سی پی آئی ایم“ کی مقبوضہ کشمیر میں 25کے قریب کتب پر پابندی کی مخالفت
نئی دہلی: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا( مارکسسٹ) نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں 25 کے قریب کتابوں پر پابندی کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا مین سی پی آئی (ایم) کے کے رکن وی سیواداسن نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے لہذا جمہوری قوتوں کو جموںوکشمیر میںکتابوں پر پابندی کی سخت مخالف کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں 25 کے لگ بھگ ایسی کتابیں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے جن میںاسکے مطابق علیحدگی پسند بیانیے کو فروغ دینے والا مواد موجود ہیں۔
کتابوں پر پابندی کا اقدام اظہارِ رائے کی آزادیاور اختلافی آوازوں کے خلاف جاری بھارتی ریاستی کریک ڈاو¿ن کا حصہ ہے۔ یہ کتابیں معروف کشمیری ، بھارتی اور عالمی مصنّفین، صحافیوں، محققین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی تحریر کردہ ہیں اور تحقیقی و قانونی حقائق پر مبنی ہیں۔
ان کتابوں میں جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، مسئلہ کشمیر کے تاریخی سیاق و سباق اور جمہوریت سے متعلق ابواب شامل ہیں۔








