بھارت

مقبوضہ کشمیر:25کتابوں پر پابندی افسوسنا ک ہے،معروف بھارتی ادیب کا موقف

کشمیریوں کو آزادی اظہار رائے کے بارے میں خبردار کرنے کی ایک کوشش ہے

نئی دلی: بھارت کے معروف ادیبوں اور اسکالرز نے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں 25کتابوں پر پابندی کو افسوسناک قراردیتے ہوئے کہاہے کہ یہ پابندی کشمیریوں کو آزادی اظہار کے حق سلب کرنے کی ایک کوشش ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی قابض انتظامیہ نے بعض کتابوں پر پابندی عائد کی ہے جن میں کشمیری، بھارتی اور بین الاقوامی مصنفین مولانا ابو اعلیٰ مودودی، اروندھتی رائے، انورادھا بھسین، سمنترا بوس،وکٹوریہ شوفیلڈ، کرسٹوفر سنیڈن ،حفصہ کنجوال، محمد یوسف صراف، اطہر ضیا، اے جی نورانی اور دیگر کی تصانیف شامل ہیں۔ قابض انتظامیہ کے اس حکم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ماہر سیاسیات اور مصنف سمنترا بوس نے کہا کہ انہوں نے 1993سے کشمیر سمیت بہت سے موضوعات پر لکھا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پورے عرصے کے د وران انکا بنیادی مقصد امن کے راستوں کی نشاندہی کرنا تھا تاکہ تشدد کا خاتمہ ہو اور خوف اور جنگ سے پاک ایک مستحکم مستقبل کا لطف اٹھایا جا سکے ۔انہوں نے کہاکہ وہ پرامن نقطہ نظر اور مسلح تنازعات کے حل کے حامی ہیں ، چاہے وہ کشمیر میں ہو یا دنیا کاکوئی بھی علاقہ ۔سمنترابوس نے کہاکہ ان کی دو کتابیں "کشمیر ایٹ دی کراس روڈ: 21 ویں صدی کا تنازعہ "اور "کنٹیسٹڈ لینڈ "پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ماہر بشریات اور اسکالر انگانا چٹرجی کی تصنیف "کشمیر: اے کیس فار فریڈم”پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے ۔ کتاب کے دیگر معاون مصنفین میں طارق علی، ہلال بٹ، حبہ خاتون، پنکج مشرا اور اروندھتی رائے شامل ہیں ۔انگاناچٹرجی نے کہا کہ آمرانہ حکومتیں اپنی طاقت کامظاہرہ کرنیکے لیے کتابوں پر پابندی عائد کر تی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتابوںپر پابندی کشمیریوں کو آزادی اظہار رائے اور اختلاف رائے کے خلاف خبردار کرنے اورجرائم کیخلاف انصاف کے حصول سے روکنے کی ایک کوشش ہے۔ان کتابوں میں اسلامی اسکالر اور جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابو اعلیٰ مودودی کی "الجہاد الاسلام”، آسٹریلوی مصنف کرسٹوفر سنیڈن کی "آزاد کشمیر، ڈیوڈ دیوداس کی مستقبل کی تلاش میں(کشمیر کی کہانی )،وکٹوریہ شوفیلڈ کی تنازعہ کشمیر (بھارت ، پاکستان اور نہ خٹم ہونے والی جنگ)، اے جی نورانی کی تنازشہ کشمیر1947-2012اورارون دھتی رائے کی کتاب "آزادی” شامل ہے۔ ڈیوڈ دیوداس نے قابض انتظامیہ کی طرف سے کتابوں پر پابندی کو افسوسناک قراردیا کیونکہ کتابوں پر پابندی جمہوری نظریات اور تہذیبی اقدار کے خلاف ہے۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے اپنی تصنیف میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے امن عمل سے متعلق امن، مکالمے اور جمہوریت کی پرزور حمایت کی گئی ہے۔نورادھا بھسین نے کتابوں پرپابندی کی مذمت کرتے ہوئے ایکس پر ایک پیغام میں کہاکہ انہوں نے ان میں سے بیشتر کتابیں پڑھی ہیں ۔ ان پر اچھی طرح تحقیق کی گئی ہے اور کسی میں بھی دہشت گردی کی تعریف نہیں کی گئی ہے جس کے خاتمے کا دعویٰ قابض انتظامیہ نے کیاہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button