بھارتی فورسز نے کپواڑہ میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا، تین کشمیری نوجوان گرفتار
سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فورسز نے ضلع کپواڑہ کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں ۔ قابض فورسز اہلکاروںنے علاقے میں تین بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے ۔ بے لگام بھارتی فورسز اہلکاروں نے پر تشدد آپریشن کے ذریعے شہریوں میں خوف وہراس پھیلا دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فورسز نے ضلع کے علاقوں واجھامہ، اوورا اور گلگام کے جنگلاتی علاقوں میں تلاشی آپریشن شروع کیا ہے ۔ فوجیوں نے واجہامہ میں تلاشی کے دوران تین نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ۔ بھارتی پولیس کے ایک ا سینئر افسر نے گرفتار کیے گئے نوجوانوں کو ایک مجاہد تنظیم کے کاردندے قرار دیا ہے ۔ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں عسکریت پسند قرار دینا یا ان پر عسکریت پسندوںکے لیے کام کرنے کا الزام دھرنا بھارتی فورسز کا پرانا وطرہ ہے۔
قابض حکام نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اوورا اور گلگام میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا ہے۔ حکام نے ایک بیگ بھی قبضے میں لینے کا دعوی کیاجس میں انکے مطابق اردو میں لکھا ہوا ایک پاکستانی ایڈریس اور براون شوگر کے 16 پیکٹ تھے۔
کشمیر کی صورتحال پر نگاہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ قابض بھارتی حکام نے کشمیریوں کو بلا جواز حراست میں لینے، انہیں خوفزدہ کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے بے بنیاد الزامات لگانا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی چیز کو پاکستان سے منسوب کرنے کا مقصد کشمیریوں کی منصفانہ تحریک آزادی اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا کہ مودی حکومت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور نہتے کشمیریوں پر اپنے مظالم کو چھپانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہی ہے۔





