کشتواڑ:بادل پھٹنے سے کم سے کم 32 ہندو یاتری ہلاک

جموں:
غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے کم سے کم 32ہندویاتری ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشتواڑ کے دور دراز گائوں چسوتی جو مژھل ماتا مندر کوجانے والے راستے کے آخر میں واقع ہے میں بادل پھٹنے سے شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث یہ ہلاکتیں ہوئی ۔ علاقے میں بڑی تعداد میں ہندو مندر کی یاترا کیلئے موجود تھے۔گائوں سے مندر تقریبا8.5کلومیٹر دور ہے۔ساڑھے 9فٹ کی بلندی پر اور کشتواڑ سے تقریبا 90 کلومیٹر دور واقع گائوں میں دن 12سے ایک بجے کے دوران شدید بارش کے بعد سیلاب آگیا۔ سیلا ب کے باعث بڑی تعداد میں یاتری بہہ گئے اورمتعددسیلابی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ۔قابض حکام کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر نے میڈیا کو بتایاہے کہ علاقے میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔مژھل ماتایاترا کو بھی معطل کر دیاگیاہے۔






