گاندربل میں کمسن لڑکی کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ضلع گاندربل کے علاقے سہہ پورہ میں ایک کمسن لڑکی کے بہیمانہ قتل کے خلاف لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے جس سے ایک بار پھر علاقے میں سکیورٹی کی تشویشناک صورتحال بے نقاب ہوگئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات کو دودرہامہ کے گھنٹہ گھرپر سینکڑوں مقامی افراد اور سماجی کارکن جمع ہوئے جنہوں نے موم بتیاں اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے اوروہ مقتول لڑکی کے لئے انصاف کا مطالبہ کررہے تھے۔ مظاہرین نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور مجرموں کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے افسوس کا اظہار کیاکہ انتظامیہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مکمل طورپر ناکام ہوگئی ہے جس کی وجہ سے علاقے میں اس طرح کی ظالمانہ کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو نظر انداز کرنے پر عمر عبداللہ کی زیرقیادت کٹھ پتلی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرائم جو کبھی فلموں میں دیکھے جاتے تھے اب کشمیری معاشرے میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔سماجی کارکن بلال وانی نے کہا کہ اس طرح کی گھنائونی حرکتیں انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد تحقیقات کو یقینی بنائے اور قصورواروں کو سزا دے کر مثال قائم کرے۔انہوں نے ایسے مجرموں کے مکمل سماجی بائیکاٹ کی ضرورت پر زور دیا۔مظاہرین نے فوری انصاف اور علاقے میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ مذکورہ لڑکی اور اس کی بہن پر اتوار کی صبح سہہ پورہ میں اس وقت حملہ کیا گیا جب نامعلوم افراد نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی۔ بڑی بہن فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی لیکن چھوٹی حملے میں ماری گئی۔







