مقبوضہ کشمیر: ہزاروں ریٹائرڈملازمین جی پی فنڈ کی رقم نہ ملنے کے باعث شدید مالی مشکلات سے دوچار

سری نگر: بھار ت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہزاروں سرکاری ریٹائرڈ ملازمین شدید مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ انہیں جنرل پراویڈنٹ (جی پی) فنڈ کی رقم نہیں دی جا رہی ہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق 12ہزارسے زائد ریٹائرڈ ملازمین کے جی پی فنڈ کیسز گزشتہ کئی ماہ سے زیر التوا ہ ہیں۔ یہ معاملہ مقبوضہ علاقے کو درپیش شدید مالی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ مودی حکومت مقبوضہ علاقے میںزور وشور سے تعمیر و ترقی کے دعوے کر رہی ہے لیکن جی فنڈ کا یہ معاملہ اسکے ان دعوﺅں کو بے نقاب کر رہا ہے ۔
کل 12ہزار 62ملازمین کے کیسز زیر التوا ہیں۔ ان میں سے 7359 تین مہینوں سے کلیئرنس کے منتظر ہیں، بہت سے معاملات انتظامی منظوریوں کے باوجود روکے ہوئے ہیں۔ محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اسکے پاس فنڈز کی کمی ہے اور زیادہ تر کیسز اسی وجہ سے لٹکے ہوئے ہیں۔ ادائیگاں نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین سخت مشکلات کا شکار ہیں۔بڈگام کے ایک ریٹائرڈ استاد کا کہنا ہے کہ اس نے اکتوبر میں اپنی بیٹی کی شادی کے لیے چار ماہ قبل جی پی فنڈ نکالنے کے لیے درخواست دی تھی جو انہیں تاحال نہیں ملی۔ انہوںنے کہا کہ محکمہ 25 سال تک میری تنخواہ سے رقم کاٹتا رہا اور اب جب مجھے اپنے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، مجھے بتایا جارہا ہے کہ خزانے کے پاس فنڈز نہیں ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔
ملازمین کی انجمنوں نے حکومتی رویہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تاخیر کو غیر منصفانہ اور استحصالی قرار دیا ہے






