بھارتی سپریم کورٹ نے دفعہ370کی منسوخی کو غیر آئینی قرار دیاتھا: پی چدمبرم

نئی دہلی:کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی یقین دہانی کے باوجود اس کاریاستی درجہ بحال نہ کرکے وعدے کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پی چدمبرم نے ”انڈین ایکسپریس” میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے دفعہ370 کی منسوخی کو برقرار نہیں رکھا تھا بلکہ حقیقت میں 5اگست 2019کو مودی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کو غیر آئینی اور ناجائز قرار دیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ دفعہ367کو تبدیل کرنے، دفعہ370(3)میں ترمیم کرنے اور اس کے بعد دفعہ370کو منسوخ کرنے کے حکومتی اقدام کو عدالت نے مسترد کر دیااوراس نے دفعہ370(1)کے تحت جموں و کشمیر میں بھارتی آئین کے اطلاق کو ہی برقرار رکھاہے۔چدمبرم نے زور دے کر کہا کہ مودی حکومت نے سپریم کورٹ سے وعدہ کیا تھا کہ 30ستمبر 2024تک ریاست کا درجہ بحال کر دیا جائے گا، لیکن انتخابات ہونے کے باوجود علاقے کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا ہے جو واضح طورپردھوکہ دہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت سے محرومی کشمیری عوام کی ایک بڑی شکایت ہے۔انہوں نے پہلگام حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار افراد کے بارے میں حکام کی خاموشی نے لوگوں کی مایوسی کو مزید گہرا کردیاہے۔ پی چدمبرم نے خبردار کیا کہ سپریم کورٹ کو سیاسی اور سیکورٹی کے مسائل سے پریشان نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کے بجائے آئینی سوال پر انصاف فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے کیا گیا وعدہ 20ماہ سے پورا نہیں ہوا۔





