گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے حملے کو 42 سال مکمل، سکھ آج بھی انصاف کے منتظر

امرتسر: ریاستی دہشت گردی پر مبنی بھارتی فوج کے آپریشن بلیو سٹار کو 42 سال مکمل ہو گئے ہیں اور اس آپریشن سے متاثرہ سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آپریشن بلیو سٹار کا آغاز یکم جون 1984 کو گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے حملے سے ہوا تھا، جسے سکھ برادری اپنی تاریخ کے المناک ترین واقعات میں شمار کرتی ہے۔آپریشن بلیو سٹار کے دوران ہزاروں نہتے مرد، خواتین، بزرگ اور بچے بھارتی فوج کی سفاکانہ کارروائیوں کا نشانہ بنے، اس واقعہ کو بھارتی ریاستی دہشت گردی اور اقلیت دشمنی کی بدترین مثال قرار دیا جاتا ہے، گولڈن ٹیمپل پر حملے کو انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی بھی قرار دیا گیا ہے۔بھارتی حکومت کا کہناہے کہ اس کارروائی میں 400 کے قریب افراد ہلاک ہوئے، جبکہ سکھ تنظیموں اور آزاد انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اس فوجی آپریشن میں 5ہزار سے زائد اور کچھ رپورٹس کے مطابق 10ہزارکے قریب نہتے سکھ یاتری، مرد، خواتین اور بچے مارے گئے تھے۔
گولڈن ٹیمپل پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع ہے اور اسے سکھ مذہب کا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی نے بھارتی فوج کے ذریعے اس پر یلغار کر کے ریاستی دہشت گردی کی خوفناک مثال قائم کی تھی۔
جمہوریت کے دعویدار بھارت نے اس کارروائی کے ذریعے اقلیتوں کو خوف کے سائے میں دھکیل دیا، آپریشن بلیو سٹار کے خلاف برطانیہ، کینیڈا، امریکا اور دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے، اس دوران کئی سکھ فوجی افسران اور اہلکاروں نے بھارتی فوج کی کارروائی کے خلاف اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا تھا۔ 4 دہائیاں گزرنے کے باوجود اس کارروائی سے متاثر ہونے والی سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔








