نیشنل کانفرنس کے لیڈروں کا درگاہ حضرت بل میں اشوک کے نشان والی تختی کی تنصیب پرسخت ردعمل
سرینگر:
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںوزیر تعلیم اور نیشنل کانفرنس کی سینئر لیڈر سکینہ ایتو نے درگاہ حضرت بل پر اشوک کے نشان والی تختی کی تنصیب کے معاملے پر پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ قابض انتظامیہ کے اس اقدام سے کشمیریوں کے مذہبی جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سکینہ ایتو نے سرینگر میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ درگاہ حضرت بل ہمارا فخر ہے، وہاں اشوک کے نشان والی تختی لگا کر لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ انہوں نے مظاہروں کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ہر ایک کو عسکریت پسند قرار دینا بلا جواز ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر میں آمریت کا خاتمہ ہونا چاہیے اور کشمیریوں کی مذہبی اور جذباتی حساسیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔نیشنل کانفرنس کے رہنما اورممبر قانون ساز اسمبلی تنویر صادق نے درگاہ حضرت بل میں اشوک کے نشان والی تختی لگائے جانے کے بارے میں میڈیا سے گفتگو میں وقف بورڈ کے وائس چیرپرسن کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔این سی لیڈر نے الاٹمنٹس اور ٹینڈرز میں بے ضابطگیوں کی ہائوس کمیٹی سے تحقیقات کرانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اسمبلی کمیٹی ای ٹینڈرنگ کے بغیر کئے گئے تمام کاموں کا جائزہ لے اور قصورواروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔





