مقبوضہ جموں و کشمیر

رکن اسمبلی کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے بھارتی فورسز کا طاقت کا وحشیانہ استعمال

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی معراج الدین ملک کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے خلاف ضلع ڈوڈہ کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے بھارتی فورسزنے آنسو گیس کے گولوں اور لاٹھی چارج سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق قابض حکام نے منگل کے روز ڈوڈہ میں موبائل انٹرنیٹ پر پابندی کے بعد مظاہروں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے امتناعی احکامات نافذ کیے ۔ اس کے باوجود ڈوڈہ اور مقبوضہ جموں وکشمیرکے دیگر اضلاع میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اورمعراج ملک کی رہائی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کو روکنے کے لیے پیراملٹری فورسز اورپولیس نے گندو، کہارا، ٹھاٹھری، بھلیسہ اور ڈوڈہ کے دیگر علاقوں میں نئی چوکیاں قائم کیں۔ ڈوڈہ کے علاقے دوناڈی میں مظاہرین اورفوسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا جبکہ مظاہرین نے جواب میں پتھرائو کیا۔خواتین سمیت متعدد مظاہرین کوگرفتارکیا گیا۔ٹھاٹھری ۔گندو روڈ کی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آنسو گیس کا دھواں علاقے کو لپیٹ میں لے رہا ہے جبکہ مظاہرین ایک چوکی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بھارتی فورسز نے خاردار تاروں سے پلوں کو بند کر دیاجس کے بعد پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں۔ ڈوڈہ قصبے میں ضلعی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر معراج ملک کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر شدید لاٹھی چارج کیا گیا جس سے متعددافراد زخمی ہوئے۔ٹھاٹھری میں بھارتی فوجیوںنے مظاہرین کو روکنے کے لیے کشتواڑ ڈوڈہ روڈکو بند کردیا۔
دریں اثناء عام آدمی پارٹی نے جموں شہر میں پریس کلب کے باہر احتجاج کیااورمعراج ملک کی گرفتاری اور بی جے پی کے خلاف نعرے لگائے۔ راجوری، پونچھ، کشتواڑ اور اسلام آباد اضلاع سے بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔

رکن اسمبلی کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے بھارتی فورسز کا طاقت کا وحشیانہ استعمال

جموں09ستمبر(کے ایم ایس)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی معراج الدین ملک کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے خلاف ضلع ڈوڈہ کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے بھارتی فورسزنے آنسو گیس کے گولوں اور لاٹھی چارج سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق قابض حکام نے منگل کے روز ڈوڈہ میں موبائل انٹرنیٹ پر پابندی کے بعد مظاہروں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے امتناعی احکامات نافذ کیے ۔ اس کے باوجود ڈوڈہ اور مقبوضہ جموں وکشمیرکے دیگر اضلاع میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اورمعراج ملک کی رہائی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کو روکنے کے لیے پیراملٹری فورسز اورپولیس نے گندو، کہارا، ٹھاٹھری، بھلیسہ اور ڈوڈہ کے دیگر علاقوں میں نئی چوکیاں قائم کیں۔ ڈوڈہ کے علاقے دوناڈی میں مظاہرین اورفوسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا جبکہ مظاہرین نے جواب میں پتھرائو کیا۔خواتین سمیت متعدد مظاہرین کوگرفتارکیا گیا۔ٹھاٹھری ۔گندو روڈ کی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آنسو گیس کا دھواں علاقے کو لپیٹ میں لے رہا ہے جبکہ مظاہرین ایک چوکی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بھارتی فورسز نے خاردار تاروں سے پلوں کو بند کر دیاجس کے بعد پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں۔ ڈوڈہ قصبے میں ضلعی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر معراج ملک کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر شدید لاٹھی چارج کیا گیا جس سے متعددافراد زخمی ہوئے۔ٹھاٹھری میں بھارتی فوجیوںنے مظاہرین کو روکنے کے لیے کشتواڑ ڈوڈہ روڈکو بند کردیا۔
دریں اثناء عام آدمی پارٹی نے جموں شہر میں پریس کلب کے باہر احتجاج کیااورمعراج ملک کی گرفتاری اور بی جے پی کے خلاف نعرے لگائے۔ راجوری، پونچھ، کشتواڑ اور اسلام آباد اضلاع سے بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button