بھارت

جموں وکشمیر میں حالات معمول پر آنے کابی جے پی کا دعویٰ محض پروپیگنڈا ہے: سنجے سنگھ

نئی دہلی: بھارت میں عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما او پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آنے کا اس کا دعویٰ محض پروپیگنڈا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سنجے سنگھ نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں درجنوں دہشت گردوں کو بی جے پی کا عہدیدار بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حالات معمول پر آنے کا بی جے پی کا دعوی دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے یہ پریس کانفرنس سرینگر سے واپسی کے بعدکی جہاں جمعرات کو نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ہدایت پر پولیس نے انہیں نظر بند کر دیاتھا۔سنجے سنگھ نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں عام آدمی پارٹی کے واحد رکن اسمبلی معراج ملک کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے تاریخی ظلم قرار دیا۔ معراج ملک جموں و کشمیر کے پہلے رکن اسمبلی ہیں جن کے خلاف پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے انہیں نشانہ بنانے کے لیے دس گیارہ سال پرانی ایف آئی آرز کا استعمال کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کالے قانون کے نفاذ کو درست ثابت کرنے کے لیے2014، 2016، 2021، 2023 اور 2024میں درج کی گئی18 ایف آئی آرزکا استعمال کیا گیا ہے۔ سنجے سنگھ نے گھر میں نظربندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے جس کی وجہ سے وہ سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ یا پریس کانفرنس نہیں کرسکے، کہا کہ وزیر اعظم مودی کا دعویٰ ہے کہ جموں و کشمیر پرامن ہے پھر بھی ایک رکن پارلیمنٹ کو گیسٹ ہائوس کے باہر قدم رکھنے سے روک دیا گیا ہے اور اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ یہاں تک کہ فاروق عبداللہ کو جو کئی بار جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اوربھارتی وزیر رہ چکے ہیں ، مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب جموں و کشمیر میں فاروق عبداللہ کی پارٹی کی حکومت ہے اوران کا بیٹا وہاں کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی پولیس انتظامیہ نے جموں و کشمیر کو ایک مذاق بنادیا ہے۔بی جے پی کو دوہرے معیار کی جماعت قرار دیتے ہوئے سنجے سنگھ نے معراج ملک کی رہائی کے لیے سڑکوں سے پارلیمنٹ تک جدوجہد کرنے اور سپریم کورٹ تک جانے کا عزم ظاہرکیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button