بھارت : جعلی سائنسدان گرفتار، حساس جوہری معلومات سمیت 14نقشے برآمد

ممبئی:ممبئی پولیس نے مبینہ طور پر بھارت کے اہم ترین جوہری تحقیق کے ادارے بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹرسے وابستگی ظاہر کرنے والے ایک جعلی سائنسدان کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے حساس ایٹمی ڈیٹا اور 14نقشے برآمد کر لیے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے کہاہے کہ ان دستاویزات میں خفیہ یا حساس نوعیت کی معلومات موجود ہو سکتی ہیں جنہیں ماہرین اس وقت جانچ رہے ہیں۔ اختر قطب الدین حسینی نامی ملزم کو گزشتہ ہفتے جو ورسووا سے گرفتار کیا گیاتھاج س کا تعلق جھار کھنڈ کے علاقے جمشید پور سے ہے۔ وہ مختلف جعلی شناختوں کے تحت خود کو سائنسدان ظاہر کر رہا تھا۔پولیس نے اس کے قبضے سے جعلی پاسپورٹ، آدھار کارڈ، پین کارڈ اور اٹامک ریسر چ سینٹر کا جعلی شناختی کارڈ بھی برآمد کیا ہے۔ایک شناختی کارڈ پر اس کا نام علی رضا حسین درج تھا، ب کہ دوسرے پر الیگزینڈر پالمر۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بین الاقوامی کالز کی ہیں اور اسکے کال ریکارڈز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اختر حسینی کو2004میں دبئی سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا، جہاں اس نے خود کو سائنسدان ظاہر کر کے خفیہ دستاویزات رکھنے کا دعوی کیا تھا۔ڈی پورٹ کیے جانے کے باوجود وہ جعلی پاسپورٹس کے ذریعے دوبارہ دبئی، تہران اور دیگر ممالک کے سفر کرتا رہا۔





