مودی-ٹرمپ دوستی کھوکھلی اور محض دکھاواثابت ہوئی ہے : کانگریس
نئی دہلی: بھارت میں کانگریس کے سینئر رہنما اور جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ گزشتہ دو مہینوں میں پیش آنے والے چار اہم عالمی واقعات نے بھارت کی کمزور خارجہ پالیسی اور نام نہاد مودی-ٹرمپ دوستی کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان چار واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے حامی جس دوستی اور سفارتی کامیابی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں، وہ محض ایک دکھاوا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے سب سے پہلے آپریشن سندور کا ذکر کیا جس کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ انہوں نے ہی اس آپریشن کو رکوانے کے لیے مداخلت کی تھی۔ جے رام رمیش کے مطابق ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ اگر بھارت اور پاکستان جنگ نہ روکتے تو امریکہ ان سے تجارتی تعلقات ختم کر دیتا۔ یہ بیان بھارت کی خودمختاری اور فیصلہ سازی پر براہِ راست سوال اٹھاتا ہے۔دوسرا واقعہ 10جون 2025کا ہے جب امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کریلا نے پاکستان کو شاندار شراکت دار قرار دیا۔ یہ بیان دہشت گردی کے خلاف بھارت کی مستقل کوششوں کے بالکل برعکس ہے اور دہلی کے سفارتی بیانیے کو کمزور کرتا ہے۔تیسرا نکتہ 18جون 2025کو پیش آیاجب ٹرمپ نے بغیر پیشگی اطلاع کے پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ وائٹ ہائوس میں ظہرانے پر ملاقات کی۔ چوتھا واقعہ25جولائی 2025کا ہے، جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا۔جے رام رمیش نے کہاکہ وزیراعظم مودی نے 2020کی وادی گلوان جھڑپ کے بعد چین کو کلین چٹ دے دی تھی جس کا خمیازہ آج تک بھارت بھگت رہا ہے۔ انہوں نے لکھا اسی دن سے بھارت کی خارجہ پالیسی کمزور پڑ گئی۔ مودی اور ان کے حامی جس ٹرمپ دوستی کو اپنی جیت قراردیتے رہے، وہ اب کھوکھلی اور محض دکھاوے کی رہ گئی ہے۔کانگریس رہنما نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ اور اثر و رسوخ کو نقصان پہنچا ہے اور اس کی وجہ وہ غلط سفارتی فیصلے ہیں جن کی بنیاد مودی حکومت نے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں کا سنجیدہ جائزہ لے کیونکہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور دکھاوے کی دوستی سے قومی مفادات کا تحفظ ممکن نہیں۔





