خراج عقیدت

میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے پروفیسر عبدالغنی بٹ کو زبردست خراج عقیدت

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے سینئر حریت رہنما پروفیسر غنی بٹ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پروفیسر عبدالغنی بٹ کابدھ کی شام سوپور میں انتقال ہو گیاتھا۔میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں پروفیسر بٹ کے ساتھ اپنی 35سالہ رفاقت کو باعث اعزاز قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ انہیں عظیم کشمیری دانشور کو قریب سے جاننے اور ان کی حکمت سے سیکھنے کا موقع فراہم ہوا۔ میرواعظ نے کہا کہ پروفیسر بٹ ایک ماہر تعلیم، اسکالر اور مدبر سیاست دان تھے ،جنہوں نے مذاکرات اور مسلسل بات چیت کو مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کا واحد عملی طریقہ قرار دیاتھا۔ ایک ایسے وقت میں جب بہت سے لوگ مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں طر ح طرح کی باتیں کر رہے تھے پروفیسر بٹ نے کھل کر واضح موقف اختیار کیا۔میرواعظ نے کہا کہ پروفیسر بٹ کوکشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائیگااور ان کی قربانیوں کو خدمات کو ہرگز فراموش نہیں کیاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر بٹ کی وفات سے پیدا ہونے والے خلاکو ہرگز پر نہیں کیاجاسکتا تاہم انکا وژن کشمیریوں کی ہمیشہ رہنمائی کرتی رہے گی ۔
ادھر تحریک حریت جموںو کشمیر کے ترجمان احمد یاسین نے ایک بیان میںپروفیسر عبد الغنی بٹ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ پروفیسر بٹ کے انتقال سے کشمیری قوم ایک مخلص آزادی پسند راہنما اور دانشور سے محروم ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پروفیسر بٹ زندگی بھرآزادی کی شمع روشن رکھی اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مشن کی آبیاری کرتے رہے۔انہوں نے کہاکہ پروفیسر بٹ بھارت نواز سیاست دانوں کو سیاسی سودا گر قرار دیتے تھے۔وہ کشمیری قوم کو ہمیشہ ان کی چالبازی سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرتے تھے۔احمد یاسین نے پروفیسر بٹ کی بلندی درجات اور سوگوارخاندان کیلئے صبر جمیل کی دعاکی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button