سرینگر : انتظامیہ نے میر واعظ کو گھر میں نظر بند کر دیا
لداخ میں بغاوت نئی دلی کے اگست2029کے غیر آئینی فیصلے کا نتیجہ ہے، سینئر رہنما حریت کانفرنس

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو آج پھر گھر میں نظر بند کر دیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے” ایکس “پر جاری بیان میں کہا ” آج میری رہائش گاہ پر متحدہ مجلس علماء( ایم ایم یو ) کے سرکردہ رہنماﺅں کا ایک اہم اجلاس ہونا تھا جس میں اہم دینی اور معاشرتی معاملات پر غور و خوض کیا جانا تھا تاہم انتظامیہ نے میرے گھر کی طرف جانے والے راستے خاردار تاریں لگا کر بند کردیے اور مجھے گھر میں نظر بند کر دیا۔ “
میر واعظ نے اپنی نظر بند ی کو انتہائی مضحکہ خیز اور انتظامیہ کی بوکھلاہٹ قرار دیا۔
دریں اثنا میر واعظ نے ایک بیان میں لداخ خطے کے علاقے لیہہ میں مظاہرین پر بھارتی فورسز اہلکاروں کی فائرنگ سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ لداخ خطے میں بغاوت نئی دہلی کے 5 اگست 2019 کے غیر آئینی فیصلے کا براہ راست نتیجہ ہے، جب جموں و کشمیر کو اس کے عوام کی خواہشات کے خلاف تقسیم کرکے نئی دلی کے زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا جا رہا ہے جسکے افسوسناک نتائج نکل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں سے کیے گئے وعدوں کو بلا تاخیر پورا کیا جانا چاہیے۔








