بھارتی فوج کشمیری خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے، مقررین

جنیوا: جنیوا میں منعقدہ ایک سیمینار کے مقررین نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز مقبوضہ جموںوکشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں جسکا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقررین نے جنسی تشدد اور اجتماعی عصمت دری کے دل دہلا دینے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اب بھی دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطوں میں سے ایک ہے جہاں بھارتی فورسز اہلکاروںکو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت نہتے لوگوں پر مظالم کی کھلی چھٹی حاصل ہے۔ سیمینار کی نظامت انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین (آئی ایم ڈبیلو یو) کی نمائندہ شمیم شال نے کی۔
"مسلح تنازعات میں جنسی تشدد” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین نے مشترکہ طور پرکیا تھا۔سیمینارسے لارڈ ڈنکن میک نیئر، ڈاکٹر کیری پیمبرٹن فورڈ، ہنس ایچ دوبی، سکیرولین ہینڈچین موزر؛ م زرین ہینس ورتھ، ریحانہ علی، سیدہ تحریم بخاری اور ڈاکٹر شگفتہ اشرف نے خطاب کیا۔مقررین نے کنن پوشپورہ اجتماعی آبروریزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیری خواتین کی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طوراستعمال کر رہی ہے۔
مقررین نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر عالمی اداروںکی رپورٹس پر روشنی ڈالی جو جنسی تشدد کے مقدمات کی تفتیش یا ان پر مقدمہ چلانے میں ریاست کی ناکامی کو بے نقاب کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان رپورٹس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف بھارتی جرائم سے پردہ اٹھا یا ہے۔
مقررین نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث کسی بھی بھارتی فوجی کو آج تک سزا نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرائے۔




