ہم جنگ چیت چکے ہیں، تمام مسائل پر بھارت کیساتھ مذکرات کیلئے تیار ہیں
پاکستا ن کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارک : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم بھارت سے جنگ جیت چکے ہیں، اب ہم امن کے خواہاں ہیں اور پاکستان، تمام حل طلب مسائل پر بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مابق وزیر اعظم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشہ سال میں نے اسی فورم پر خبردار کیا تھا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا ، مشرقی سرحد سے بلااشتعال جارحیت کی گئی اور پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے پہلگام کے واقعے پر ہماری شفاف اور غیرجانبدارانہ عالمی تحقیقات کی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے ایک انسانی المیے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور ہمارے شہروں پر حملہ کردیا اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ جب ہماری علاقائی خودمختاری اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی کی گئی تو ہمارا جواب اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع میں تھا،ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شاندار قیادت میں حیرت انگیز پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور فہم و فراست کے ساتھ ایک آپریشن کیا۔انہوں نے کہا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت میں ہمارے شاہین فضا میں بلند ہوئے اور آسمانوں پر اپنا جواب ثبت کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت کے سات طیارے ملبے اور دھول میں بدل گئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوشش نہ صرف خود معاہدے کی شقوں کے منافی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ ہم اپنے 24 کروڑ عوام کے ان پانیوں پر حق کا ضرور اور پ±رجوش دفاع کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ برتری کے باوجود پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی، صدر ٹرمپ کی امن کے لیے کوششوں نے جنوبی ایشیا میں جنگ کو ٹالنے میں مدد کی۔ اگر انہوں نے بروقت اور فیصلہ کن مداخلت نہ کی ہوتی تو ایک مکمل جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے۔
وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ایک دن بھارت کا ظلم و ستم وادی میں مکمل طور پر رک جائے گا اور کشمیر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ایک غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے بنیادی حقِ خودارادیت حاصل کرے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے زور دیکر کہا کہ ہم کشمیری عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ایک دن کشمیری اپنا حق خود ارادیت حاصل کریں گے اور بھارت کا قبضہ ختم ہوگا۔ انہوں نے غزہ کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کی حالتِ زار ہمارے دور کے سب سے دل دہلا دینے والے المیوں میں سے ایک ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ طویل ناانصافی عالمی ضمیر پر ایک داغ اور ہماری اجتماعی اخلاقی ناکامی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 80 سالوں سے فلسطینی عوام اسرائیلی ظلم و جبر کا سامنا کررہے ہیں، مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو اسرائیلی آباد کاروں کی جارحیت کا سامنا ہے جبکہ غزہ میں بھی فلسطینی عورتیں اور بچے اسرائیلی فوج کی درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے، پاکستان آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جو 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔وزیر اعظم نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قطری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کے آگے ایک دیوار ہے جس نے دنیا کو دہشتگردی سے بچایا ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن، انصاف اور ترقی کی حمایت جاری رکھے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انتونیوگوتریس نے مشکل ترین حالات میں اقوام متحدہ کی قیادت کی۔انہوں نے کہا کہ ہماری دنیا آج کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے، عالمی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے، انسانی بحران بڑھتے چلے جارہے ہیں، دہشت گردی اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔انہوں کہا کہ ڈس انفارمیشن ایک فیک نیوز اعتماد اور یقین کو ٹھیس پہنچا رہی ہیں ، موسمی تبدیلیاں ہماری بقا کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریے کے مطابق امن، باہمی احترام، اور تعاون پر مبنی ہے، ہم مذاکرات اور سفاری کاری کے ذریعے تنازعات کے پ±رامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں امریکی صدر کی امن کی ترویج کے لیے غیرمعمولی کوششوں کے اعتراف میں پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نام زد کیا اور یہ وہ کم سے کم قدم ہے جو ہم ان ( ٹرمپ ) کی امن سے محبت کے لیے کرسکتے تھے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہم اس اہم وقت میں پاکستان کی سفارتی مدد پر اپنے دوستوں، چین، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ایران، قطر، آذربائیجان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مشکور ہیں۔وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے کیا۔KMS






