لداخ

لداخ میں احتجاجی مظاہروں، کرفیواورپابندیوں کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر

لہہ :غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ میں جاری عوامی مظاہروں میں چار مظاہرین کی ہلاکت اور سوکے قریب زخمی ہونے کے بعد غیر معینہ مدت کیلئے عائد کرفیو کی وجہ سے خطے میں سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثرہواہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسافر ہوٹلوں تک محدود ہیں جبکہ بکنگ کینسل ہونے سے سیاحت کے شعبے سے وابستہ مقامی لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔لہہ اپیکس باڈی کی اپیل پر کی گئی ہڑتال کے دوران جھڑپوں کے بعد 24ستمبر کو عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے معمولات زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں اور سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثرہوا ہے جو کہ خطے کے لیے ایک اہم اقتصادی لائف لائن ہے۔ موبائل انٹرنیٹ سروزسز بدستور معطل ہیں۔مقامی ہوٹل مالکان اور ٹرانسپورٹرز نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعدسیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ایک ہوٹل مینیجر نے میڈیا کو بتایاکہ گزشتہ ہفتے سے ایڈوانس بکنگ کی منسوخی کاسلسلہ جاری ہے اور انہیں سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ایک ٹرانسپورٹر رگزن دورجے نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ ابھی تک پہلگام واقعہ کے اثرات سے پوری طرح نہیں نکل پایاہے کہ ایک بار پھر سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثرہورہاہے۔علاقے میں محصور سیاحوں نے بھی سخت مایوسی کا اظہار کیاہے۔ تائیوان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح نے میڈیا کو بتایاہے کہ وہ پینگونگ جھیل دیکھنے آئی تھیں، لیکن میں کرنسی کا تبادلہ یا کھانا خریدنے سے بھی قاصر ہیں ،کیونکہ علاقے میں سب کچھ بند ہے۔مقامی ہوٹل مالکان نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ اگر حالات جلد معمو ل پر نہ آئے تو مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button