بھارت میں ہندوتوا کا عروج:مسلم مخالف پالیسیوں اور اقدامات سے مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن
نئی دلی:
بھارت میں مودی حکومت کے دور میں مسلم مخالف پالیسیوں اور اقدامات میں تیزی سے مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اتر پردیش کی ریاستی حکومت اور اس کے زیر اثر پولیس نے ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں کے خلاف کارروائیاںتیز کر دی ہیں ۔ دی وائر کی رپورٹ کے مطابق متھرا کو ستمبر 2021میں مقدس قرار دیے جانے کے بعد سے مسلم اکثریتی علاقوں میں گوشت کی دکانیں اور ہوٹل بند کر دیے گئے ہیں، جس سے مقامی مسلمانوں کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔پولیس کو گائے کے تحفظ کے قوانین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہیں، جنہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ریاست میں جھوٹے مقدمات، بلاجواز گرفتاریاں اور سماجی امتیاز عام ہوگیا ہے۔ مسلمانوں شدیدخوف ودہشت کا شکار ہیں اور وہ گوشت کھانے یا خریدنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔دی وائر کے مطابق متھرا میں ہندوتوا لیڈروں کے مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند رہنما مسلمانوں کو دیمک کہہ کر پکارتے ہیں، جبکہ نوجوان مسلمان شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ہندو مذہبی رنگوں والے زعفرانی کپڑے پہننے پر مجبور ہیں۔مزید برآں، مسلمانوں کے قبرستانوں کے قریب کچرے کے ڈھیر لگائے جا رہے ہیں اور مساجد کے قریب بیت الخلا تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں مساجد پر قبضوں،اذان پر پابندی اور گھروں کی مسماری کی کارروائیاں بھی تیز کردی گئی ہیں، جو آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی مودی حکومت کے نظریاتی بیانیے اور ہندو قوم پرستی کے عروج کا نتیجہ ہے، جس نے ملک کے سیکولر تشخص کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔







