روس کی طرف جھکائو ، امریکی ٹیرف میں اضافہ، منی پور کی کشیدہ صورتحال
بھارت کو شدیدچیلنج درپیش اورعالمی سطح پر سفارتی تنہائی میں اضافہ
اسلام آباد:
بھارت کے روس کی طرف جھکائو، امریکہ کی جانب سے 50فیصد ٹیرف کے نفاذ اور منی پور کی کشیدہ صورتحال سے ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی واضح ہوتی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بین الاقوامی مبصر ین بھارت کے اعلیٰ سطح وفد کے روس کے دورے کو طاقت کے عالمی توازن کیلئے ایک چیلنج کے طورپردیکھتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف بھارت کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں بلکہ اسے عالمی سطح پرموثر سفارتی حیثیت کے حصول میں ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے ۔شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور میں صدارتی راج میں مزیدچھ ماہ کی توسیع سے بھارت کے دیرینہ سیاسی عدم استحکام اور نسلی تنازعات کو حل کرنے میں اسکی ناکامی ظاہرہوتی ہے۔ مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ شمال مشرقی ریاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات دیگر حساس علاقوں خصوصا مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھی پڑ سکتے ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے روس سے تیل کی درآمد جاری رکھنے پر بھارت پر 50فیصد ٹیرف کے نفاذ سے بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں حائل خلیج اورعالمی منڈی میں بھارت کی تیزی سے گرتی ہوئی ساکھ کی نشاندہی ہوتی ہے ۔معاشی تجزیہ کار امریکی صدر کے اس اقدام کو بھارت اوراسکی معیشت کیلئے ایک بڑا دھچکا قراردے رہے ہیں ۔
ادھر اقوام متحدہ کی امن مشن کے شراکت داروں کی حالیہ کانفرنس سے پاکستان اور چین کو باہر رکھنے پربھی بھارت کوعالمی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔بھارتی حکومت کے اس اقدام کو امن مشن کے فورم کو سیاست کی نظر کرنے اورعالمی امن و استحکام کیلئے اہم علاقائی فریقوں کو نظر انداز کرنے کی ایک سازش کے طورپر دیکھا جارہاہے۔ عسکری محاذ پر پاکستان نے حالیہ جنگ کے دوران بھارت کے جدیدترین رافیل سمیت چھ طیاروں کومار گرایا اور براہموس میزائل سسٹم کوتباہ کر کے بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کے خلاف اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کی اپنی صلاحیت کا ثبوت پیش کیاہے۔ ماہرین کے مطابق ان تمام واقعات سے سفارتی، سیاسی اور عسکری سطح پر بھارت کی گرتی ہوئی ساکھ اور عالمی سطح پر کمزور ہوتی پوزیشن ظاہر ہوتی ہے ۔







