لداخ

بھارتی سپریم کورٹ  میں سونم وانگچک کی غیر قانونی نظربندی کے خلاف دائر عرضداشت پر سماعت
بھارتی حکومت اور لداخ انتظامیہ کو نوٹسز جاری، سماعت 14اکتوبر تک ملتوی

نئی دلی:
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی غیر قانونی نظربندی کے خلاف دائر عرضداشت پر سماعت کے دوران بھارتی حکومت اور لداخ کی انتظامیہ کو نوٹسز جاری کر دئے ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اپنے حقوق کیلئے لہہ میں 24ستمبر کو احتجاج کرنے والے مظاہرین پر بھارتی پولیس کی فائرنگ سے 4افراد کی ہلاکت کے بعد وانگچک کو دیگر افراد کے ہمراہ گرفتار کرلیاگیاتھا۔سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے اپنے شوہر کی رہائی کیلئے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پرمشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے عرضداشت پر سماعت کی اوربھارتی حکومت اور لداخ انتظامیہ کو سونم وانگچک کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف دائر درخواست کا جواب دائر کرنے کی ہدایت کی۔سپریم کورٹ نے حراست سے متعلق دستاویزات اور حکمنامے کی نقل درخواست گزار وانگچک کی اہلیہ کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ۔سپریم کورٹ نے جیل میں سونم وانگچک کوعلاج معالجے کی مناسب سہولت فراہم کرنے کا بھی حکم جاری کیا ۔عرضداشت پر اب آئندہ سماعت 14اکتوبرکو ہو گی ۔سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ انکے شوہر کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیاہے اور انہیں کسی قانونی عمل کے مطابق گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اپیل کی کہ سپریم کورٹ فوری طور پر مداخلت کرے اور سونم وانگچک کے تحفظ اور قانونی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔ قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار وانگچک اس وقت بھارتی ریاست راجستھان کی جودھ پور جیل میں قید ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button