مقبوضہ جموں و کشمیر

چیف جسٹس پر جوتا پھینکنا مودی راج میں بھارت کی اخلاقی گراوٹ کی عکاسی کرتا ہے: محبو بہ مفتی

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اندرچیف جسٹس بی آرگوائی پر جوتا پھینکنابی جے پی کے دور حکومت میں بھارت کی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ بی جے پی کے وکست بھارت (ترقی یافتہ بھارت)کی بھیانک تصویر پیش کرتا ہے جہاں حملہ آور پورے اعتماد کے ساتھ کارروائی کرتے ہیں کہ انہیں نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس پر جوتا پھینکنا اس بات کو ظاہرکرتا ہے کہ بی جے پی کے دور میں بھارت کیا بن رہا ہے ،ایک ایسی جگہ جہاں نفرت پھیلانے پر انعام دیا جاتا ہے، عصمت دری کرنے والوں کو معاف کیا جاتا ہے اور اختلاف کرنے والوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ 71سالہ وکیل نے یہ اقدام اس لئے کیاکیونکہ وہ یہ جانتاہے کہ اسے اسی نظام سے تحفظ حاصل ہوگا جو عمر خالد اور شرجیل امام جیسے اختلاف رائے کی آوازوں کودباتا ہے اور بغیر ضمانت کے قید میں رکھتا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ واقعہ بھارت کی عدلیہ کے لیے بقاء کا مسئلہ ہے ،آیا وہ آئین کا دفاع کرے گی یاخاموش رہے گی کیونکہ اسے پائوں تلے روندا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گوڈسے کے بھارت میں نیا معمول ہے جہاں انتہا پسند عناصر ریاستی سرپرستی میں استثنیٰ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔مذکورہ وکیل کو جس کی شناخت راکیش کشور کے طور پر کی گئی ہے، سیکورٹی اہلکاروں نے اس وقت اپنی تحویل میں لیاجب اس نے بھارتی چیف جسٹس پر جوتا پھینکا اور وہ سناتن دھرم کے نعرے لگا رہاتھا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مودی کی زیرقیادت نظام کے تحت بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور استثنیٰ کے کلچر کی عکاسی کرتا ہے جہاں نفرت پھیلانے والی کارروائیاں ایک معمول بن گیا ہے اور اختلاف رائے کو جرم قراردیاگیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button