بھارت: افغان وزیرخارجہ کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روکنے پر شدید ردعمل
نئی دہلی: بھارت میں افغان وزیرخارجہ کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روکنے پرسیاسی قیادت اورصحافیوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مختلف صحافیوں نے سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تمام خواتین رپورٹرز نے مقررہ لباس سے متعلق ضابطے کا احترام کیا تھا، اس کے باوجود انہیں اندر جانے نہیں دیا گیا۔دی انڈین ایکسپریس کے مطابق نمایاں نیوز چینلز کی سینئر رپورٹرز سمیت دی انڈیپنڈنٹ کی نمائندہ کو بھی پریس کانفرنس سے روک دیا گیا۔ یہ پریس کانفرنس اس وقت منعقد کی گئی جب طالبان وزیر نے بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔صحافیوں نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک خودمختار جمہوری ملک میں طالبان کے امتیازی رویے کے لیے جگہ بنانا قابلِ افسوس ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف صحافت کی آزادی بلکہ خواتین کی مساوی نمائندگی پر بھی کاری ضرب ہے۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے اس معاملے پر ایکس پرایک بیان میں وزیرِ اعظم نریندر مودی سے وضاحت کی ہے کہ طالبان نمائندے کی پریس کانفرنس سے خواتین صحافیوں کو کیوں ہٹایا گیا؟ اگر آپ کا خواتین کے حقوق پر یقین صرف انتخابی دکھاوا نہیں تو ملک کی بہترین خواتین رپورٹرز کی یہ توہین کیسے برداشت کی گئی؟ ہمارا ملک اپنی خواتین پر فخر کرتا ہے، ان کی بے عزتی ناقابلِ قبول ہے۔کانگریس کے سینئر رہنماراہل گاندھی نے پرینکا گاندھی کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے افغان وزیرِ خارجہ کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہ دیے جانے کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی سے جواب مانگا ہے۔ اپنی ایکس پوسٹ میں راہل گاندھی نے لکھا، جناب مودی، جب آپ خواتین صحافیوں کو عوامی فورم سے باہر رکھنے کی اجازت دیتے ہیں، تو آپ ہر بھارتی عورت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ آپ ان کے لیے کھڑے ہونے میں کمزور ہیں۔ ہمارے ملک میں خواتین کو ہر جگہ مساوی شرکت کا حق حاصل ہے۔ اس طرح کے امتیاز کے سامنے آپ کی خاموشی آپ کے ناری شکتی کے نعرے کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتی ہے۔ واضح رہے کہ افغان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران خواتین صحافیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔







