بھارت نے بنگالی بولنے والے سینکڑوں مسلمانوں کو بنگلہ دیش بے دخل کر دیا

نئی دہلی: بھارت نے سینکڑوں لوگوں کو جن میں زیادہ تر بنگالی بولنے والے مسلمان ہیںکو بغیرکسی قانونی کارروائی کے بنگلہ دیش بے دخل کر دیا ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلاءنے اس غیر قانونی بے دخلی کی مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیشی حکام نے اس اخراج کی تصدیق کی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ملک بدر کیے گئے لوگ غیر قانونی تارکین وطن ہیںجن میں سے زیادہ تربنگلہ دیش سے ہیں بھارتی اعلیٰ حکام نے انہیں درانداز قرار دیا ہے۔
اس غیر قانونی بے دخلی نے بھارت کی مسلم آبادی خاص طور پر بنگالی بولنے والوں میں خوف ودہشت کو جنم دیا ہے۔
انسانی حقوق کے سینئر بھارتی کارکن ہرش میندر نے کہا کہ بھارت کے مشرقی علاقوں کے رہائشی مسلمان شدید خوفزدہ ہو گئے ہیں اور لاکھوں لوگ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔
مشرقی ریاست آسام سے تعلق رکھنے والی رحیمہ بیگم نے کہا”میں نے اپنی ساری زندگی یہاں گزاری ہے ، میرے والدین، میرے دادا دادی، وہ سب یہیں سے ہیں،میں نہیں جانتی کہ وہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں کررہے ۔ رحیمہ بیگم اور پانچ دیگر مسلمانوں کو بھی بھارتی پولیس نے حراست میں لیکر بنگلہ دیش کی طرف دھکیل دیا اور انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ واپس پلٹ آئے تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلانے اس بے دخلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسکی سخت تنقید کی ہے۔ نئی دہلی میں مقیم شہری حقوق کے وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ لوگوں کو تب تک ڈی پورٹ نہیں کر سکتے جب تک کہ کوئی ملک انہیں قبول نہ کرے۔انہوںنے کہا کہ بھارتی قانون لوگوں کو بغیر مناسب کارروائی کے ملک بدر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ادھر بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ بھارت نے رواں برس مئی سے اب تک 16سو سے زائد لوگوں کو نکال دیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 25سو تک ہو سکتی ہے۔





