عمر عبداللہ کشمیریوں کو بے اختیار کرنے کے بھارتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔، وحید پرہ
پسماندہ علاقوں کا کوٹہ کم کرنے کے حکومتی فیصلے کی مذمت

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما عبدالوحید پرہ نے نیشنل کانفرنس کی حکومت کی جانب سے پسماندہ علاقوں کے رہائشیوں کا کوٹہ کو کم کرنے کے متنازعہ فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ان کی نمائندگی کو نقصان پہنچانے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وحید پرہ نے پسماندہ علاقوں کے رہائشیوں ”آر بی اے“ کا کوٹہ کم کرنے کے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک دانستہ اقدام قرار دیا جس کا مقصد مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو بے اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی سائٹ ”ایکس “ پر ایک پوسٹ میں لکھا ”کشمیریوں نے عمر عبداللہ کو اپنے حقوق کے دفاع کے لیے ایک تاریخی مینڈیٹ دیا ،پھر بھی وہ دہائیوں میں سب سے زیادہ کشمی مخالف فیصلے کر رہے ہیں۔ نیا ریزرویشن میٹرکس کشمیریوں کی نمائندگی کو کمزور کرنے کا ایک سیاسی منصوبہ ہے۔ ہم ذیلی کابینہ کمیٹی کی رپورٹ کو فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔“
وحید پرہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ براہ راست اس کوٹہ کو متاثر کرتا ہے جس نے تاریخی طور پر حقوق کا تحفظ کیا ہے اور مقبوضہ علاقے کے لوگوں کے لیے انتظامی اور تعلیمی شعبوں میں مناسب نمائندگی کو یقینی بنایا ہے۔پرہ نے کہا کہ یہ اقدام وادی کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کے لیے منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ایک ضروری تحفظ کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر کے لوگوں کے حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کشمیریوں کے مفادات کے لیے کھڑے ہونے کے بجائے انہیں بے اختیار کرنے کے بھارتی حکومت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت کا یہ اقدام کشمیریوں کو دیوار کیساتھ لگانے کی منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کشمیریوں کو ہر لحاز سے مفلوک الحال بنانے کے بھارتی حکومت کے ایجنڈے اور اسکی پالیسیوں کے آگے بندھ باندھنے میں ناکام رہے ہیں۔





