مقبوضہ جموں و کشمیر

نامعلوم شرپسندوں نے شوپیان میں باغ کے درختوں کو کاٹ ڈالا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں نامعلوم شرپسندوں نے ضلع شوپیان کے علاقے کیلر میں ایک باغ کے درختوں کو کاٹ ڈالا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیب کے درختوں کو کاٹنا مودی حکومت کے دور میں ہراساں کرنے کی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ چیک کیلر کے رئیس وانی کے باغ میں آج علی الصبح تقریبا 35سے 45 اطالوی سیب کے درخت کلہاڑی سے کٹے ہوئے پائے گئے۔درختوں کی کٹائی سے اس خاندان کو شدید معاشی دھچکا لگا جو اپنی روزی روٹی کے لیے باغات پر انحصارکرتا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ درختوں کو جان بوجھ کرکاٹاگیا اور اس کا مقصد باغبانوں میں خوف ودہشت پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھارتی فوج اور اس کے حمایت یافتہ عناصر ایسی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں تاکہ کسانوں اور باغات کے مالکان کو اقتصادی طورپر کمزورکیاجائے۔اس طرح کی کارروائیوں سے نہ صرف انفرادی طورپر خاندانوں کو بھاری مالی نقصان پہنچتاہے بلکہ زرعی علاقوں میں عدم تحفظ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ سیب کی صنعت کشمیر کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ بھارتی فورسز اور اس سے وابستہ کارندوں کے بار بار حملوں، چھاپوں اور بلاجواز کارروائیوں کی وجہ سے یہ صنعت پہلے ہی شدید دبائو کا شکارہے۔ مقامی لوگوں نے تازہ ترین واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مقامی معیشت کو نقصان پہنچانے او رلوگوں کوڈرانے دھمکانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ باغات کو نشانہ بنانابھارتی ظلم و جبر کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button