تریپورہ سرحد پر تین بنگلہ دیشی شہریوںکا قتل، حکومت بنگلہ دیش کیطرف سے شدید مذمت، تحقیقات کا مطالبہ

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی حکومت نے بھارتی ریاست تریپورہ کیساتھ لگنے والی سرحد پر بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس اہلکاروں کے ہاتھوں تین بنگلہ دیشی شہریوں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قصورواروںکو سزادینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ 15 اکتوبر کو پیش آیا۔ یہ بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر بی ایس ایف اہلکاروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تازہ ترین سنگین واقعہ ہے۔
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ”بنگلہ دیش نے انصاف اور شفافیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس قتل کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا،یہ گھناو¿نا فعل ناقابل قبول ہے، بنگلہ دیش کی حکومت اس افسوسناک واقعے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائے اور اس طرح کے غیر انسانی فعل کو روکنے کے لیے مخلصانہ کوشش کرے۔“
بنگلہ دیشی شہریوں کے اس تازہ قتل سے بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر تشدد اور حقوق کی خلاف ورزیوں کی پریشان کن صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ 2001 سے اب تک 15سو سے زائد بنگلہ دیشی شہری سرحد سے متعلقہ تشدد میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ بی ایس ایف کی فائرنگ سے یا دوران حراست بہیمانہ تشدد سے ہلاک ہوئے ہیں۔بھارت-بنگلہ دیش سرحد تقریباً 4ہزار96 کلومیٹر لمبی ہے، جو پانچ بھارتی ریاستوں: مغربی بنگال، آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم کے ساتھ ملتی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کچھ سرحدی تنازعات موجود ہیں۔ بی ایس ایف اہلکاروں کے ہاتھوں بنگلہ دیشی شہریوںکی ہلاکت کے واقعات زیادہ ترتریپورہ کے ساتھ ملنے والی سرحد پر پیش آتے ہیں اور یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرکز بن چکی ہے۔مجرموں کوکبھی سزا نہیں دی جاتی۔ بی ایس ایف اہلکاروں نے 2011 میں ایک بنگلہ دیشی لڑکی فیلانی خاتون کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور بعد میں اسکی لاش سرحدی باڑ پر لٹکا دی تھی۔ اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرح کے بہیمانہ واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔بھارتی حکومت نے کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بی ایس ایف اور دیگر فورسز کو بیگناہ لوگوں کے قتل کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ اس کالے قانون کے تحت حاصل استثنیٰ کی وجہ سے آج تک کسی بھی مجرم بھارتی فوجی کو سزا نہیںدی گئی۔KMS-08/M






