نئی دلی:
بھارتی ائیر لائن ایئر انڈیا کے سی ای او کیمبل ولسن نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارتی طیاروں کیلئے اپنی فضائی حدود کی بندش ایئر لائنکی بروقت پروازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایئر انڈیا کے سی ای او کیمبل ولسن نے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے ایوی ایشن انڈیا پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فضائی حدود پر پابندیاں پروازوں کے لیے وقت کی پابندی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ ہم کس طرح بہتری لا سکتے ہیں، تاہم کاروباری لحاظ سے یہ سال کافی چیلنجنگ ہوگا ۔پاکستان نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور مودی حکومت کے ناکام آپریشن سندو رکے بعدسے بھارتی پروازوں کیلئے اپنی فضائی حدود بند کررکھی ہیں ۔غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے ایئر انڈیا کی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں اور خاص طور پر جون میں ہونے والے طیارہ حادثے کے بعد فضائی کمپنی کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔حادثے میں 260کے قریب مسافر ہلاک ہو گئے تھے ۔ ٹاٹا گروپ کی زیرملکیت یہ ایئرلائن اس حادثے کے بعد سے شدید نگرانی اور دبائو کا شکار ہے، کمپنی کو کئی سنگین الزامات کاسامنا ہے ، جن میں ہنگامی آلات کی جانچ کے بغیر پروازیں چلانا، انجن کے پرزے وقت پر تبدیل نہ کرنا، جعلی ریکارڈ تیار کرنا اور عملے کی تھکن جیسے معاملات شامل ہیں۔







