یوسف تاریگامی کا بھارت میں آزادی صحافت کی سنگین صورتحال پر اظہار تشویش
سرینگر: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے بھارت خاص طور پرغیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں آزادی صحافت کی سنگین صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اورقابض حکام سے جمہوریت کے چوتھے ستون یعنی صحافت کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محمد یوسف تاریگامی نے مقبوضہ جموں و کشمیر اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں آزادی صحافت مسلسل کم ہو رہی ہے اوربھارت کی گلوبل پریس فریڈم انڈیکس میں پوزیشن 166درجے تک گر گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر میں حالات اس سے بھی بدتر ہیں۔ جس معاشرے میں آزادی صحافت متاثر ہوتی ہے، وہاں بگاڑ اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی چار صحافی جیل میں قیدہیں۔یوسف تاریگامی نے سوال اٹھایا کہ ایک منتخب حکومت کے برسر اقتدار ہونے کے باوجود بھارت میں آزاد اورموثر میڈیا پالیسی کیوں نہیں وضع کی جا سکی۔ انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ آج بھی اسی طرح الجھن کا شکار ہے جیسے انتخابات سے پہلے تھی۔ یوسف تاریگامی نے میڈیا کو سرکاری اشتہارات نہ دینے پر بھی تشویش ظاہر کی اورکہا کہ اشتہارات کی منصفانہ تقسیم آزاد صحافت کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے میڈیا کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی شفافیت اور جواب دہی کے لیے پریس کو آزاد ہونا چاہیے۔







