بی جے پی حکومت نے ڈوڈہ میں اسکولوں میں ”وندے ماترم” گانے کو لازمی قرار دیا

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے ہندوتوا نظریے کو مسلط کرنے کی ایک اور مذموم کوشش میں ضلع ڈوڈہ میں تمام اسکولوں میں ”وندے ماترم” گانے کو لازمی قرار دیاہے جس سے مسلمانوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈوڈہ کے چیف ایجوکیشن آفیسر کی طرف سے یکم نومبر کو جاری کردہ حکم نامے میں تمام سکولوں کے سربراہان کو ہر پیر کو صبح کی اسمبلیوں کے دوران وندے ماترم پڑھنے کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ علمائے دین، سیاسی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے حکمنامے کومسلمانوں کی مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قراردیکراس کی مذمت کی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مختلف سیاسی ، سماجی اورمذہبی تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم متحدہ مجلس علماء کے سربراہ بھی ہیں، اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلم اکثریتی آبادی پر آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کو مسلط کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی حب الوطنی کسی کے عقیدے کی خلاف ورزی کا تقاضا نہیں کرتی اور اس طرح کی جابرانہ پالیسیاں خود بھارت کے سیکولر تانے بانے کو ختم کر رہی ہیں۔میرواعظ نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے کہاکہ وندے ماترم میں عقیدت کا اظہار ہے جو اللہ کی مکمل وحدانیت کے اسلامی عقیدے سے متصادم ہے۔ انہوںنے کہاکہ اسلام کسی ایسے عمل کی اجازت نہیں دیتا جس میں خالق کے علاوہ کسی اور کی عبادت یا تعظیم شامل ہو۔ مسلمانوں پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے وطن سے دل کی گہرائیوں سے محبت کریں اور اس کی خدمت کریں، اس کا اظہار خدمت، ہمدردی اور معاشرے کے لیے کردار ذریعے کیا جانا چاہیے،نہ کہ عقیدے سے متصادم اعمال کے ذریعے۔کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے اس حکم شدید مذمت کرتے ہوئے اسے توہین آمیز فعل اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا دانستہ اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کے بول میں ہندو دیوتائوں کی تعریف کی جاتی ہے جواسلامی توحید سے مطابقت نہیں رکھتے اور اسے مسلمان طلبا ء پر مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ یہ برادریوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ ذمہ دار افسران کو جوابدہ ہونا چاہیے اور اس حکم کو فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔ تعظیم ایک چیز ہے لیکن ہمارا ان دیوتائوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ ایک جابرانہ فیصلہ ہے۔ اس کے لیے ذمہ دار افسران کو حساب دینا چاہیے اور اس حکم کو جلد از جلد منسوخ کیا جانا چاہیے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت نے ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی حکومت قوم پرستی کی آڑ میں منظم طریقے سے مسلمانوں کے عقائد اور ثقافت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بیان میںکہا گیا کہ وندے ماترم کا نفاذ کشمیریوں کی منفرد شناخت کا احترام کرنے کے بجائے بھارت کی ثقافتی یلغار کے عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔







