بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے لہہ کونسل کے انتخابات میں تاخیر پر تنقید
لہہ:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے میں سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے مقامی انتظامیہ کی طرف سے لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لہہ کے انتخابات کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے جس نے خطے میں اپنی سیاسی بنیاد کھو دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے جو آئینی ضمانتوں اور جمہوری حقوق کے لئے جاری تحریک کی مشترکہ طور پر قیادت کررہی ہیں، کہا کہ تاخیر نے لداخ سے اس کا آخری جمہوری ادارہ بھی چھین لیا ہے۔ ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ ڈورجے لاکروک نے انتخابات کوغیر معینہ مدت تک ملتوی کیے جانے کو عوام کے جمہوری حقوق پر حملہ قراردیتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کو فوری طور پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرنا چاہیے۔لداخ کے محکمہ قانون وانصاف کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم نامے میں کونسل کے اختیارات ڈپٹی کمشنر کو سونپ دیے گئے ہیں جس سے ضلع کو کسی منتخب ادارے کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے۔ لہہ کونسل کی مدت31اکتوبر کو ختم ہو گئی جبکہ کرگل کونسل 2028تک برقرار رہے گی۔
دریں اثناء ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کا پانچ نئے اضلاع دراس، زنسکار، نوبرا، چانگتھانگ اور شام کی تشکیل کا منصوبہ لداخ کے جنگلی حیات کی نازک پناہ گاہوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور اسے ماحولیاتی طور پر حساس سرحدی علاقوں میں فوجی موجودگی بڑھ سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کاکہنا ہے کہ یہ فیصلہ2019ء میں جموں وکشمیر سے علیحدگی اورمرکز کے زیر انتظام علاقے میں تبدیلی کے بعد لداخ میں جمہوریت کی تباہی کی عکاسی کرتا ہے۔








