6 نومبر یوم شہدائے جموںمضامین

جموں قتلِ عام ۔۔۔ جب زندگی کے قافلے رہِ موت  پہ چلے

تحریر ارشد میر

جموں میں مسلمانوں کا قتلِ عام اور  جبری بے دخلی برصغیر کی تاریخ کا وہ بھیانک باب ہے جو وقت کی گرد میں بظاہر تو چشم عالم سے اوجھل  ہوگیا ہے مگر نہ صرف کشمیریوں کی اجتماعی یاداشت پر نقش ہے بلکہ اپنے محرکات ومقاصد کے ساتھ آج بھی بھارتی استعماریت کے تحت نئی شکل میں موجود ہے۔یہ خونی باب نومبر 1947 کے پہلے ایک ہفتہ میں رقم ہوا جب برصغیر کی اصولی تقسیم کے ہندو فسطائیت کے ہاتھوں لگے زخم ہرے ہی تھے کہ جموں وکشمیر کے شخصی حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی و بھارتی فوج، آر ایس ایس و ہندو مہاسبھا جیسی تنظیموں اور پٹیالہ کے سکھوں کے ذریعہ صوبہ جموں میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے منصوبے کے تحت وہ خونی کھیل کھیلا جس کو یاد کرکے آج بھی انسانیت کانپ اٹھتی ہے۔جموں شہر اور اس کے مضافات ،  خاص طور پر تلوار، سانبہ، کٹھوعہ، آر ایس پورہ اور دیگر  علاقوں میں اڑھائی سے ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ دی ٹائمز)لندن) کے مطابق صرف ایک دن ہی میں دو لاکھ 37 ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔

برطانوی اخبار  The Times (London) نے 10 اگست 1948 کی اشاعت میں صفحہ نمبر5 پر  بھارت سے اپنے نمائندہ خصوصی کی رپورٹ شائع کرتے ہوئے لکھا :

"In the Jammu area alone, between 200,000 and 500,000 Muslims were systematically exterminated by the forces of the Dogra State and Hindu extremists. Large numbers of Muslims were driven across the border into Pakistan”.

(ترجمہ) “صرف جموں کے علاقے میں دو لاکھ سے پانچ لاکھ مسلمانوں کو ڈوگرہ ریاست کی فوج اور ہندو انتہا پسندوں نے منظم انداز میں قتل کیا۔ ہزاروں مسلمانوں کو پاکستان کی سرحد عبور کرنے پر مجبور کیا گیا۔”

The Sunday Times (London) نے 9 نومبر 1947 کو اپنے خصوصی نمائندہ مائیکل ایڈمز کی رپورٹ شائع کرتے ہوئے لکھا:

"A terrible tragedy has taken place in Jammu where the Muslim population has been almost wiped out. Trains of refugees arriving in Pakistan tell stories of wholesale massacres carried out by Dogra forces under cover of the chaos of partition”.

(ترجمہ)”جموں میں ایک خوفناک سانحہ پیش آیا ہے جہاں مسلمان آبادی تقریباً مٹا دی گئی ہے۔ پاکستان پہنچنے والی پناہ گزینوں کی ٹرینیں بتاتی ہیں کہ کس طرح ڈوگرہ افواج نے تقسیم کے انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔”

Ian Stephensجو کلکتہ سے شائع ہونے والے اخبار The Statesmanکے ایڈیٹر بھی تھے اپنی کتاب "پاکستان” میں رقمطراز ہیں:

"The Jammu killings were an organised massacre, abetted by the authorities of the Dogra regime”.

(ترجمہ) "جموں میں ہونے والی ہلاکتیں ایک منظم قتلِ عام تھیں جن کی ڈوگرہ حکومت  نے سرپرستی اور مدد  کی۔”

برطانوی مؤرخ وکٹوریا اسکوفیلڈ نے اپنی کتابKashmir In Conflict-India, Pakistan and the Unending  War میں ایان اسٹیفنز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ"اگست سے شروع ہونے والے گیارہ ہفتوں میں منظم درندگی کے ذریعے مسلمانوں کی پوری آبادی، جو تقریباً پانچ لاکھ تھی، ختم کر دی گئی۔ ان میں سے دو لاکھ لاپتہ ہو گئے، شاید قتل کر دیے گئے یا بیماری و بھوک سے مر گئے، جبکہ باقی مغربی پنجاب کی طرف ہجرت کر گئے۔‘‘

معروف صحافی اور کشمیر ٹائمز کے بانی  وید بھاسن، جو ان واقعات کے چشم دید گواہ تھے، بیان کرتے ہیں کہ ہندو اورسکھ بلوائی  ’’مسلمانوں کی تلاش میں ننگی تلواریں لے کر جموں کی گلیوں میں گھوم رہے تھے‘‘۔

کئی زندہ بچ جانے والے آج بھی اس سانحے کی ہولناک یادوں سے باہر نہیں نکل سکے۔ امان اللہ خان نقشبندی جو اس وقت ایک کم عمر بچہ تھے، نے بتایا کہ کس طرح مسلمانوں کو جھوٹے وعدوں کے ذریعے جموں کے پریڈ گراؤنڈ میں جمع کیا گیا تاکہ انہیں پاکستان منتقل کیا جا سکے۔ 5 نومبر 1947 کو روانہ ہونے والا پہلا قافلہ لوٹا گیا اور تمام افراد قتل کر دیے گئے۔ دوسرا قافلہ، جس میں وہ خود اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ موجود تھے، بھی راستے میں گھات لگا کر قتل کر دیا گیا۔ وہ معجزانہ طور پر بچ گئے مگر اپنے 17 قریبی رشتہ داروں کو کھو دیا۔یہ ظلم صرف جموں تک محدود نہیں رہا بلکہ ان درندوں نے سرحد پار پاکستان کے علاقوں میں بھی  داخل ہو کر  بچوں اور عورتوں سمیت 1700 مسلمانوں کو قتل کیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جموں قتلِ عام ہی وہ نقطۂ آغاز تھا جہاں سے بھارت کی آج کی RSS-BJP حکومت کی آبادیاتی تبدیلی کی پالیسی شروع ہوئی۔  RSS نے اسی وقت رمبیر سنگھ پورہ میں اپنا تربیتی کیمپ قائم کیا تھا۔افسوسناک امر یہ ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کی منظم نسل کشی وقت کی دھند میں کہیں گم ہو گئی۔ لیکن یہ سانحہ اتنا بڑا اور سنگین ہے کہ اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ایک منظم قتل عام  اور بے دخلی تھی جسے مقتولین و مہاجرین کے معصوم و خالص جذبے اور شوق کو استعمال کرکے انجام دیا گیا۔ پاکستان چونکہ ہر دور میں کشمیریوں کے خوابوں کا محور رہا ہے چنانچہ اس جذبہ کو استعمال کرنے کی کوشش کے تحت سرکاری اعلان کیا گیا کہ جو لوگ پاکستان جانا چاہتے ہیں وہ مقررہ مقامات پر پہنچیں، سرکاری انتظام کے تحت سرحد تک پہنچایا جائے گا۔

لاکھوں لوگ یہ سوچ کر جمع ہوئے کہ جموں و کشمیر کا الحاق تو پاکستان کے ساتھ ہونا ہی ہے تو کیوں نہ ڈوگرہ اور بھارتی فوج کے مظالم سے بچ کر تب تک سکون کا وقت پاکستان میں گزارا جائے؟ دس لاکھ کے قریب ان پاکستان کے متوالوں کو ٹرکوں، ریل و بیل گاڑیوں اور پیدل قافلوں کی صورت میں پاکستان کی سرحد کی طرف لے جایا گیا مگر راستے ہی میں انکا وہ قتل عام کی گیا جو  آج بھی کشمیر کی تاریخ کو کراہنے پر مجبور کرتی ہے۔ بعض کو گولیوں، بعض کو تلوار و ترشول سے اور بعض کو دریائے چناب میں پھینک کر شہید کیا گیا۔ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے اس قتل میں میں صرف ایک روز  میں ہی سوا دولاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ عورتوں اور بچیوں کی عزت ریزی کی گئی اور ہزاروں کو اغواء کیا گیا جو پھر کبھی بازیاب نہ ہوئیں۔ بچ بچا کر 5 لاکھ لوگ پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور سیالکوٹ، لاہور، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں پناہ گزین ہوگئے۔ پاکستان کے ابتدائی مہاجرین کی فہرستوں  میں یہ تعداد سات لاکھ بھی درج ہے۔

اس قتل عام کا مقصد جموں صوبے میں مسلم اکثریت کو مکمل طور پر ختم یا بے دخل یا پھر کم از کم اقلیت میں بدلنا تھا۔ اسکی گواہی بے شمار غیر جانبدار ذرائع سے ملتی ہے۔مثلا

The Times (London) نے اپنی 11 اگست 1948 کی اشاعت میں ایک رپورٹ زیر عنوان “The Massacre of Muslims in Jammu” میں لکھا:

"The slaughter of Muslims in Jammu by the Dogra State troops and the RSS volunteers appears to have been planned with the object of changing the demographic composition before the State’s accession to India”.

(ترجمہ)“جموں میں مسلمانوں کا قتل عام ڈوگرہ فوج اور آر ایس ایس رضاکاروں کی جانب سے اس منصوبے کے تحت کیا گیا تاکہ ریاست کے بھارت سے الحاق سے پہلے آبادی کا تناسب بدلا جا سکے۔”

 

لندن ہی سے شائع ہونے والے ایک اور برطانوی اخبار The Spectator نے اپنی 16جنوری 1948 کی اشاعت میں“The Tragedy of Jammu” کے عنوان سے ایک ادارتی مضمون میں لکھا :

"Few in Britain know that in the last months of 1947, a systematic extermination of Muslims took place in Jammu, an act that remains a stain on the conscience of the new Dominion of India”.

(ترجمہ)“برطانیہ میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ 1947 کے آخری مہینوں میں جموں میں مسلمانوں کا منظم صفایا کیا گیا جو نئے بھارتی ڈومینین کے ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔”

تاریخ دان  Alan Campbell Johnson جو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پریس اتاشی بھی تھے،  اپنی کتاب Mission with Mountbatten میں لکھتے ہیں:

"It was a plan of ethnic cleansing carried out to alter the demography before accession to India.The communal killings in Jammu were of such proportions that they changed the very character of the province. What had been a Muslim-majority area was turned into a Hindu-majority one almost overnight”.

(ترجمہ)“ یہ ایک منصوبہ بند نسلی تطہیر تھی جس کا مقصد بھارت سے الحاق سے قبل آبادی کا تناسب تبدیل کرنا تھا۔ جموں میں فرقہ وارانہ قتل و غارت اس قدر شدید تھی کہ اس نے صوبے کی ساخت بدل دی۔ جو علاقہ مسلم اکثریت رکھتا تھا وہ ایک رات میں ہندو اکثریت میں بدل گیا۔”

1948 میں The Guardianمیں امن کے معروف برطانوی علمبردار اور صحافی Horace Alexander کی شائع شدہ رپورٹ میں درج ہے:

"The tragedy of Jammu is one of the least known episodes of partition. Yet it was perhaps the bloodiest, with official connivance in the removal of nearly half a million Muslims”.

 (ترجمہ)“جموں کا سانحہ تقسیم کا سب سے کم معروف مگر شاید سب سے خونریز واقعہ تھا جس میں سرکاری سرپرستی کے تحت تقریباً پانچ لاکھ مسلمانوں کو ختم کیا گیا۔”

سیاسی مبصر اور مصنف Christopher Snedden اپنی کتاب  Kashmir: The Unwritten History میں لکھتے ہیں:

"The massacre of Muslims in Jammu was a deliberate demographic engineering move to alter the population balance before the state’s accession to India”.

(ترجمہ) جموں میں مسلمانوں کا قتلِ عام ایک سوچی سمجھی آبادیاتی انجینئرنگ کی کارروائی تھی، جس کا مقصد ریاست کے بھارت سے الحاق سے قبل آبادی کا تناسب تبدیل کرنا تھا۔”

کرسٹوفر سنیڈن کے مطابق اس قتلِ عام کی ایک بڑی وجہ مذہبی تعصب کے ساتھ ساتھ لوٹ مار اور مالِ غنیمت حاصل کرنا بھی تھی۔ تاہم بہت سے مسلمان اس یقین پر قائم تھے کہ یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا تاکہ جموں و کشمیر سے مسلمانوں کا وجود ہی ختم کر دیا جائے۔ آزاد کشمیر کی ایک سرکاری رپورٹ میں لکھا گیا کہ مہاراجہ نے یہ منصوبہ اس لیے بنایا تاکہ نہ صرف پاکستان کے حامی مسلمانوں کا صفایا کیا جا سکے بلکہ مغربی پنجاب سے آئے ہوئے سکھوں کو جموں میں بسایا جا سکے۔اس کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ چناب کے مشرقی علاقوں میں مسلمانوں کے تقریبا مکمل صفایا کے بعد  ہندوؤں اور سکھوں کو اکثریت میں لایا گیا۔یوں ریاست کی آبادیاتی ساخت کو دانستہ تبدیل کیا گیا۔ قابل ذکرہے کہ 1941 کی مردم شماری میں جموں میں مسلمانوں کی آبادی 61 فیصد تھی مگر 1947 کے قتلِ عام اور جبری ہجرتوں کے بعد وہ اقلیت میں بدل گئی۔

بھارت کے بانی  کرم چندگاندھی نے 1947ء کے "جموں قتلِ عام” کے بارے میں اگرچہ  بطورِ خاص کوئی الگ یا خصوصی بیان جاری نہیں کیا تھا۔تاہم 1947ء کے آخری نصف حصے میں وہ اپنے روزانہ کے دعائیہ اجتماعات اور عوامی خطابات میں پورے برصغیر میں پھیلنے والے فرقہ وارانہ فسادات، اجتماعی قتل و غارت اور خونریزی کے بارے میں بار بار اور مسلسل گفتگو کرتے رہے  جن میں جموں و کشمیر کی صورتحال بھی شامل تھی۔ مسلہ کشمیر کی حیثیت و نوعیت کے مختلف ہونے کے ناطے گاندھی کو اس قتل عام اور کشمیر کی نسبت  ان کےاصولوں اور نظریہ کے خلاف ہوئےقتل عام،ریاستی جبر اور دیگر جمہوریت کش اقدامات  پر کھل کر مذمت کرنی چاہئے تھی تاہم مبصرین اس سیاسی بددیانتی کے باوجود  تقسیم کے موقع پر ہوئی جملہ قتل  وغارت کے خلاف ان کے مذمتی بیانات کو جموں قتل  عام کے اعتراف کے طور پر بھی لیتے ہیں۔ بلکہ ایک بیا میں انھوں نے کشمیر میں پیدا ہوئے المیہ کا ذمہ مہاراجہ ہری سنگھ کو قرار دیا۔

یہ حوالہ جات اس بات کا تاریخی ثبوت  ہیں کہ جموں کا قتلِ عام کسی خود رو واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں کی گئی نسلی تطہیر (ethnic cleansing) تھی جس کا مقصدجموں و کشمیر کے مسلم تشخص کو ختم کرنا تھاتاکہ آنے والے وقت میں اس کے مستقبل پر بھارت کا ناجائز قبضہ جواز پا سکے۔

اس قتل عام کے منظم اور مسلمانوں کی نسلی تطہیر کے مقصد کا  عندیہ اس بات سے بھی ملتا ہے کہ ڈوگرہ حکمران نے اس سے پہلے ہی  اپنی فوج میں مسلم فوجیو ں کی تعداد کم سے کم اور غیر مسلم فوجیوں کی تعداد بڑھا دی تھی۔اس وقت  پونچھ اور میرپور کے علاقے برطانوی فوج کے لیے بھرتی مراکز ہوا کرتے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب ہزاروں کشمیری فوجی وطن واپس آئے تو مہاراجہ ہری سنگھ نے انہیں اپنی فوج میں جگہ دینے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ ان پر بھاری ٹیکسز بھی عائد کر دیے۔ نتیجتاً پونچھ کے عوام نے 1947 کے آغاز میں نو ٹیکس تحریکشروع کی۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے مہاراجہ نے اپنی فوج میں مزید ہندو اور سکھ بھرتی کیے اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے تمام ہتھیار جمع کروا دیں ۔

آج جب ہم اسی جموں و کشمیر کو لاکھ 10 بھارتی فوجیوں کے تسلط میں جبر و اکراہ اور نسل کشی کا تسلسل دیکھتے ہیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 1947 کا منصوبہ آج بھی جاری ہے۔ بس شکلیں بدل گئی ہیں۔ اس وقت بلوائیوں کے جتھے تھے، آج  باقاعدہ فوج ہے، اسوقت کھلا قتل عام ہوا،آج منظم آبادیاتی تطہیر ہورہی ہے۔اس وقت یہ انسانیت سوزی ننگی تھی آج اس نے قانون و جمہوریت کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ اس وقت صرف بندوقوں اور تلواروں پہ انحصار تھا آج اسے  انسداد دہشت گردی، امن و امان اور اٹوٹ انگ کی اصطلاحوں،  زمینوں و املاک  کی ضبطی، نوکریوں سے برطرفی،  شہریت کے نئے ضوابط اور میڈیاکے گھناؤنے پروپیگنڈا کی بیساکھیاں حاصل ہیں۔ مقصد وہی: کشمیری مسلمانوں کی شناخت اور اکثریت کا خاتمہ کرنا یا اس حد تک گہنا دینا یہ آزادانہ طور پر قومی شناخت منوانے کی صلاحیت نہ رکھے۔

1947 سے لیکر آج تک بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام نے اتنی ہی کثرت سے موت دیکھی ہے جتنی کسی بھی مظلوم قوم نے قبضے اور ظلم کے سائے میں دیکھی ہو۔ بلکہ کشمیریوں نے جمہوریت، سکیولرازم ، اہنسا اور پنج شیل والے بھارت کو  کئی صورتوں میں ڈوگرہ شخصی راج کو زیادہ ظالم اور منظم پایا۔

اس ساری صورتحال میں وہ تلخ حقیقت سمٹی ہوئی ہے جو دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ وہ یہ کہ یہ  صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کا نوحہ اور مستقبل کے لیے ایک انتباہ ہے کہ اگر تاریخ کو فراموش کیا گیا تو ظلم اپنی شکل بدل کر بار بار لوٹتا رہے گا۔

جموں قتل عام کا وہ سانحہ بظاہر تاریخ کی 78 پرتوں میں چھپا ہوا، دبا ہوا ضرور ہے مگر آج کے حالات میں بھی اپنی سچائی، اثر اور نتائج کی تباہی چیخ چیخ کر بیان کرتا ہے کیونکہ ظالم و جابر نے صرف شکل بدلی ہے۔ تقسیم بر صغیر کے اصول کی خلافت ورزی کا خمیازہ آج بھی یہ خطہ بھگت رہا ہے۔ایسے سچ چھپتے نہیں، نئے حالات میں نئی شکل میں بولتے ہیں اور اسوقت تک پیچھا کرتے ہیں جب تک ان کا ازالہ نہ کیا جائے۔

 

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button