سرینگر :” شہدائے جموں“ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے حریت کانفرنس کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد
شہداءکی عظیم قربانیاں تحریک آزادی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں ،مقررین

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں منعقد ہ ایک تقریب کے مقررین نے”شہدائے جموں“ کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے جنہیں نومبر 1947میں ڈوگرہ سپاہیوں، ہندوتوا آر ایس ایس اور دیگر ہندو فرقہ پرستوں قوتوں نے اس وقت بے دردی سے شہید کیا تھا جب وہ پاکستان کی طرف ہجرت کررہے تھے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تقریب کا اہتمام کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں کیا۔ حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس کیطرف سے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ تقریب کے مقررین نے ”شہدائے جموں“ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکا مقدس لہو ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔انہوں نے کہا کہ جموں خطے نے 1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ کی فورسز اور آر ایس ایس ودیگر ہندو توا قوتوں کے ہاتھوں بدترین نسل کشی کا سامنا کیا،1947 کا قتل عام انسانیت کے خلاف ایک گھناو¿نا جرم تھا ۔
مقررین نے کہا کہ بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت نے اگست 2019میں جموںکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں پر ایک اور سنگین وار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائی کا بنیاد ی مقصد مقبوضہ وادی کشمیر میں بھی مسلمانوں کی اکثریت کو اسی طرح اقلیت میں بدلنا ہے جس طرح 1947میں جموں خطے میں بدلی گئی۔ تقریب کے مقررین نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطے جموںوکشمیر میں جاری غیر قانونی بھارتی کارروائیوں اور نہتے کشمیریوں پر جاری اسکے وحشیانہ مظالم کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
مقررین نے کہا کہ شہداءکی عظیم قربانیاں تحریک آزادی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں ، شہداءکی عظیم قربانیوں کے باعث مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے ۔ انہوںنے کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ تحریک آزادی کے خلاف بھارتی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے ہوشیار رہیں اورشہداءکے مشن کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو مزید فروغ دیں۔KMS-03/M





