مقبوضہ جموں و کشمیر

بڈگام : انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام استقبال رمضان کانفرنس

بھارتی انتظامیہ رمضان المبارک کے دوران مذہبی حقوق کا مکمل احترام کرے، میر واعظ عمر فاروق

عبادت گاہوں کی بندش ناقابل قبول ہے، آغا سید حسن

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارتی انتظامیہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران مذہبی امور میںکوئی مداخلت نہیںکرے گی اورلوگوں کے مذہبی حقوق کا مکمل احترام کرے گی۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے ان خیالات کا اظہار بڈگام میںاستقبال رمضان کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ کانفرنس میں حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی، مقبوضہ علاقے کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام سمیت علاقے کے ممتازعلمائے کرام ، آئمہ اور خطبا ء شریک تھے۔میر واعظ عمر فاروق نے کہاکہ انتظامیہ ماہ مقدس میں سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سمیت تمام مساجد میں بلا روک و ٹوک عبادات کی اجازت دے ۔ انہوں نے علماء اور آئمہ کرام پر زور دیا کہ وہ اس بابرکت مہینے کے دوران لوگوں کو امید، اتحاد اور روحانی بیداری کا زیادہ سے زیادہ درس دیں ۔انہوں نے کہا کہ رمضان کا بابرکت مہینہ علماء اور مبلغین کو ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کو للہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کا درس دیں، نوجوانوںکی کردار سازی کریں اور امت کے اندر اتحاد کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ رمضان ایک ایسے وقت میں آرہا ہے جب مسلم دنیا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، فلسطین میں ناانصافی کا مسلسل جاری ہے۔بھارت میں مسلمان ایک حساس دور سے گزر رہے ہیں ۔فرقہ واریت عروج پر ہے۔میر واعظ نے مقبوضہ علاقے میں مساجد کی پروفائلنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں غیر ضروری مداخلت قرار دیا۔ میرواعظ نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بند ہونے چاہئیں اور مذہبی اداروں کو آزادی اور وقار کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔کانفرنس کا اہتمام جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان نے کیا تھا ۔تقریب سے میر واعظ عمر فاروق کے علاوہ سینئر حریت رہنما اور صدر انجمن شرعی شیعیان آغا سید حسن الموسوی الصفوی ، مفتی ناصر الاسلام، سید لطیف بخاری ،مولانا مفتی مدثر قادری ، مولانا خاکی فاروقی ، ڈاکٹر سید مدثر رضوی ، مولوی بلال حسین حاجی ،مولانا مسرور عباس انصاری، مولانا برکت صاحب ، مولانا حسن فردوسی اور سید ارشد موسوی نے خطاب کیا۔ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے خطاب میں تمام علما اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے ماہ رمضان رحمت اور مغفرت کے تحفے کے طور پر عطا کیا ہے، جس سے بھرپور استفادہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں حکام کی جانب سے جامع مسجد سرینگر کو تالہ بند کیے جانے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ماہ مقدس رمضان کے دوران جامع مسجد کو ہر صورت کھلا رکھا جائے، کیونکہ یہ وادی کشمیر میں عبادت، دینی اجتماع اور روحانی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کی بندش سے عوام کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔آخر میں انہوں نے مظلوموں کی حمایت، ان کی کامیابی اور عالم اسلام کے اتحاد و یکجہتی کے لیے خصوصی دعا کی۔KMS-11/M

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button