مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر: بھارتی پولیس کی طرف سے 13کشمیریوں کی ضمانتوں تنسیخ کی اپیل

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرکے ضلع شوپیاں میں پولیس نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت درج مقدمات میں13کشمیریوں کی ضمانتوں کی تنسیخ کی اپیل کی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے اس کالے قانون کے تحت درج مقدمات میں ضمانت پر رہاہونے والے کشمیریوں کے خلاف الزام لگایا ہے کہ ان میں سے بعض نے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے ۔تاہم،انسانی حقوق کے گروپوں نے کہاہے کہ پولیس کہ یہ اقدامات کو کشمیریوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت حاصل بنیادی قانونی تحفظات سے محروم کرنے کی بھارت کی منظم مہم کا حصہ ہیں ۔ مبصرین کے مطابق عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہونیوالے کشمیریوں کو اکثر مسلسل ہراساں اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بھارتی قابض حکام ان کشمیریوں کی ضمانتوں کی منسوخی کیلئے مبہم حیلے بہانے استعمال کر رہی ہے ۔ یہ کالا قانون مقبوضہ کشمیرمیں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے مودی حکومت کا ایک اہم ہتھیار بن گیا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق13کشمیری نظربندوں کی ضمانت منسوخ کرانے کی کٹھ پتلی انتظامیہ کی درخواست سے ایک بار پھر واضح ہو گیاہے وہ پوری طرح نئی دلی کے سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کوئی بھی کشمیری خوف یا قانونی ظلم و ستم سے آزاد نہ رہ سکے۔
ادھر مقامی کشمیریوں میں بھارت کی طرف سے یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے کالے قوانین کے وحشیانہ استعمال کے خلاف غم و غصے میں تیزی سے اضافہ ہواہے ۔ کشمیریوں کا دعوی ہے کہ ان ظالمانہ اقدامات کامقصدانکے حق خودارادیت کے جائز مطالبے کو دبانا اور جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنا ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button