مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر ایک پنجرے میں قید ہے ،کنٹرول لائن کے آر پار تجارتی راستے کھولے جانے چاہیں، محبوبہ مفتی

جموں:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کنٹرول لائن آر پارتجارت اور سفرکیلئے روایتی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہاہے کہ اگست2019میں دفعہ370کی منسوخی کے بعد سے جموں وکشمیر ایک پنجرے میں قیدہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ مسئلہ ریاستی حیثیت کے سوال سے بڑا ہے اور اس کے لیے وسیع تر سیاسی سوچ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کاپر امن حل تلاش کرنے پر زوردیا۔جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت نے جموں و کشمیر کو ایک پنجرے میں قیدد کر رکھا ہے اور وہ چاہتی ہیں جموں وکشمیر کو ہر طرف سے کھولا(آزاد کیا) جائے۔محبوبہ مفتی نے نئی دلی جموں میں سوچیت گڑھ روٹ اور لداخ میں کارگل-سکردو روڈ سمیت تاریخی گزر گاہوں کی بحالی پر زوردیا جو پہلے کنٹرول لائن کے آر پار کشمیریوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھے ۔انہوں نے کہاکہ جموں اور کشمیر کو وسطیٰ ایشیا کا گیٹ وے بنایا جانا چاہیے ۔پی ڈی پی لیڈر نے ایل او سی کے آ رپار تجارت اورمنقسم کشمیریوں کے درمیان رابطے بڑھانے پر بھی زوردیا ۔بھارتی وزیر گری راج سنگھ کے متنازعہ بیان تھا کہ "دہشتگردصرف ایک مذہب سے آتے ہیں،پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے موہن چند گاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ گری راج سنگھ سے پوچھا جانا چاہیے کہ گاندھی جی کو کس نے قتل کیا ۔انہوں نے سیاسی تشدد کے غیر امتیازی پہلو کو اجاگر کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button