بھارت کشمیریوں کے ساتھ اپنے سلوک پر سنجیدگی سے غور کرے، میر واعظ

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیری عوام پریشان اور بے اختیار ہیں کیونکہ بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں ان کی اندرونی خود مختاری بھی چھین لی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے آج سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل چھاپوں ، گرفتاریوں ،جائیدادوں کی ضبطی ، ملازمین کی برطرفی اور اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت تمام بنیادی حقوق کی معطلی نے کشمیریوں کے اندر ناامیدی اور ناراضگی کا احساس مزید گہرا کر دیا ہے ۔
میر واعظ نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت کشمیریوں کے ساتھ اپنے سلوک پر سنجیدگی سے غور کرے ۔ انہوںنے نئی دلی میں ہونے والے حالیہ بم دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ حقائق سامنے آنے سے پہلے ہی اس طرح کے سانحات کو ایک خاص مذہب اور برادری سے جوڑا جاتاہے۔ انہوںنے کہا کہ اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی طرف سے جو ڈرامہ رچایا جاتاہے اس کی وجہ سے بھارت بھرمیں موجود کشمیری طلباءاور مزدور پیشہ افراد عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہو جاتے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ مجھ سمیت مقبوضہ علاقے کی تمام سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے ہمیشہ تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے ،جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو کشمیر کے لوگ سب سے پہلے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ وہ خود گزشتہ کئی دہائیوں سے مشکلات ومصائب کی زندگی گزار رہے ہیں۔
انہو ں نے واضح کیا کہ مسائل کو حل کرنے کا بہترین راستہ بات چیت ہے ۔







