مقبوضہ جموں و کشمیر

مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے نوآبادیاتی منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے،ماہرین

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بی جے پی کی بھارتی حکومت کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ کے احکامات پر جاری محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں، غیر قانونی گرفتاریوں اور جائیدادوں کی ضبطی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سرینگر میں اپنے بیانات اور انٹرویوز میں کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت کشمیریوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک پر قبضہ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی کے اپنے نوآبادیاتی منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بے لگام بھارتی فورسز اور بدنام زمانہ بھارتی ایجنسیوں کے اہلکار نام نہاد آپریشنوں اور چھاپوں کے دوران گھروں میںگھس کر خواتین ، بچوں اور معمر افراد سمیت مکینوں کو سخت ہراساں کرتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے نے پہلگام کے علاقے میں ایک بڑا قطعہ اراضی حاصل کر رکھا ہے جہاں انکا ایک ہوٹل کی تعمیر کا منصوبہ ہے ۔انہوںنے کہا کہ غیر کشمیری بھارتی ہندو پہلگام کی وادی بیتاب میں بھی مقامی خانہ بدوش کمیونٹی سے زمینیں خرید رہے ہیں جبکہ انتظامیہ مقامی کشمیریوں کو اس علاقے میں زمین خریدنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا کہ غیر مقامی افراد کی طرف سے علاقے میں زمینوں پر قبضہ کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے کے مذموم بھارتی منصوبہ کا حصہ ہے۔
انہوںنے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت اور اس کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو ہرگز دبایا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے جارحانہ اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل کے ذریعے خطے کا امن داﺅ پر لگارکھا ہے ، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری نوآبادیاتی بھارتی اقدامات کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اس پر دباﺅ ڈالے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button