مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی حکومت کشمیری مسلم ڈاکٹروں کو گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہی ہے

سرینگر:بھارت میں مسلم طبی ماہرین، خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلسل انتقامی کارروائیوں اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جارہاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رواں ماہ کی 7تاریخ کو دہلی کے گرو تیغ بہادرہسپتال میں ایک مسلم خاتون تبسم کو گیٹ پاس ہونے کے باوجود صرف برقعہ پہننے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ مبصرین کے مطابق مودی حکومت کی یہ مہم مسلمانوں کو سماجی ، معاشی اور پیشہ ورانہ طور پر تنہا کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔2018کے بعد سے پاکستان اور بنگلہ دیش میں تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری ڈاکٹروں کی ڈگریوںکو تسلیم نہیں کیاجارہاہے اور انہیں انٹرن شپ،تقرریوں سے بھی محروم کاسامنا ہے ۔ 2019کے پلوامہ حملے کے بعد ان پابندیوں مزید سخت کر دی گئی ہے۔بھارت کے نیشنل میڈیکل کمیشن کی طرف سے اپریل 2022میںجاری کئے گئے ایک نوٹس تحت بھارتی شہریوں کو پاکستان میں دسمبر 2018کے بعد داخلہ لینے والے مسلم شہریوں کو فارن میڈیکل گریجویٹ ایگزامینیشن میں بیٹھنے سے روک دیا گیاہے، جس سے سینکڑوں میڈیکل گریجویٹس پریکٹس کرنے سے محروم ہو گئے۔ 2014سے2018کے درمیان پاکستانی میڈیکل کالجوں سے تقریبا 256کشمیری طلبافارغ التحصیل ہوئے اور کوویڈ 19کی وبا کے دوران تقریبا 700 کشمیری طلبا نے میڈیکل کالجوںمیں داخلہ لیا۔رواں سال بھارتی حکام نے ڈاکٹر مزمل احمد گنائی ، ڈاکٹر عمر محمد نبی، اور ڈاکٹر عدیل احمد راتھر سمیت کشمیری اور مسلم ڈاکٹروں پر مبینہ طورپر لال قلعہ دھماکے میں ملوث ہونے کا بے بنیاد الزام عائد کیاہے۔بھارتی پولیس نے ان کشمیری ماہرین کے اہلخانہ اور دوستوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد گرفتاریاں بھی کیں ۔ انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ الزامات عموماً مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیو ںاور انہیں بدنام کرنے کاجواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ مسلمانوں کو بیرون ملک اعلی تعلیم یا پیشہ ورانہ کیریئر بنانے سے روکا جا سکے۔ماہرین کامزید کہنا ہے کہ دہائیوں سے جاری بھارتی حکومت کی اس مہم کا مقصد میڈیکل کے شعبے میں ہندوئوں کی برتری قائم کرنا ، مسلمانوں کو سماجی و اقتصادی ترقی سے محروم رکھنا اور پاکستان مخالف بیانات کوبھارتی اور کشمیری مسلمانوںکو ریاستی سرپرستی میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے کیلئے استعمال کرنا بھی ہے ۔ گودی میڈیا بھی پاکستان سے تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری ڈاکٹروں کو سکیورٹی کے خطرات کے طور پر پیش کررہاہے، جس سے ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر ان کے ساتھ امتیاز ی سلوک کیاجاتاہے ۔مودی حکومت کی اس پالیسی کی وجہ سے کشمیری مسلم ڈاکٹرو ںکو شدید مشکلات ، جذباتی دبائو، سماجی تنہائی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے 2024میں کشمیری گریجویٹس کو مستقل لائسنس جاری کیے اور بھارت میں ان کی پیشہ ورانہ بے دخلی کو تسلیم کیا۔مبصرین اور سول سوسائٹی نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور طبی اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے اور مسلم ڈاکٹروں کے پیشہ ورانہ اور آئینی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button