APHC-AJK

الطاف وانی کا مقبوضہ کشمیر میں مقامی آبادی پر بڑھتی ہوئی نگرانی کے اقدامات پراظہار تشویش

اسلام آباد:کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی توجہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںو کشمیر میں مقامی آبادی کے خلاف بڑھتی ہوئی نگرانی کی مہم کی جانب مبذول کرائی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق الطاف وانی نے خصوصی رپورٹر برائے حقِ پرائیویسی انیہ برائن نوگرریز کے نام خط میں کہاہے کہ زیر حراست کشمیر یوں کی جی پی ایس آلات کے ذریعے نگرانی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ذاتی بائیومیٹرک کا ڈیٹا جمع کرنا مداخلت کاایک ہتھیار بن گیا ہے ،جن کے ذریعے بنیادی آزادیوں کو ختم اوراپنی بے گناہی کوثابت کرناانتہائی مشکل بنادیاگیاہے ۔انہوں نے کہا کہ پونچھ کے رہائشی مختار احمد کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ 15نومبر کوپرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج اودھمپور کی طرف سے اس کی ضمانت کی منظوری کے بعد مختار کی جی پی ایس کے ذریعے اسکی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی ، موبائل فون کی ریکارڈنگ اور ذاتی بائیومیٹرک کا ڈیٹا جمع کرنے کا بھی حکم جاری کیاگیاہے ۔ الطاف وانی نے کہاکہ یہ اقدامات مجموعی طور پر پرائیویسی کے مکمل خاتمے کا سبب بنتے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ نگرانی کے ان آلات کا غلط استعمال قانونی آزادی کو مستقل ریاستی کنٹرول میں بدل دیتا ہے اور بنیادی آزادیوں کو مزید نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔انہوں نے ان اقدامات کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نظربندوں کی الیکٹرانک نگرانی بنیادی انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔پرائیویسی کے حق کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی بنیاد قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنیادی آزادیوں اور انسانی حقوق کی بحالی بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "انٹرنیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کے آرٹیکل 17کے تحت کسی بھی شخص کی ذاتی پرائیویسی، خاندان، گھر یا مراسلات میں غیر قانونی یا جبری مداخلت نہیں کی جانی چاہیے ۔انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ڈیجیٹل نگرانی کے اقدامات پر آزادانہ تحقیقات کرائے اور ایسے اصلاحی اقدامات تجویز کیے جائیں جو ضروری، متناسب اور انسانی وقار کے مطابق ہوں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button