بھارت : گودی میڈیا کی دہشت گردی سے متعلق منافقت پر مبنی سیاست
گودی میڈیا بھگت سنگھ اور سبھاش چندر کو محب وطن جبکہ کشمیریوں کو عسکریت پسند قراردے رہاہے
نئی دلی: بھارت کے گودی میڈیا کی طرف سے کشمیری ڈاکٹروں کافلسطینیوں کی مزاحمتی تنظیم حماس سے موازنے سے نہ صرف اس کی منافقت ظاہر ہوتی ہے بلکہ یہ عالمی برادری کی ہمدردی حاصل کرنے کی بھی ایک ناکام کوشش ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق گودی میڈیا ایک طرف اپنے نوآبادیاتی دور کے مزاحمت کاروں کو محب وطن قراردے رہا ہے تاہم غیر ملکی سامراج سے آزادی کیلئے جاری دیگرتحریکوں کو مسلح مزاحمت یاعسکریت پسندی کا نا م دیاجاتاہے ۔بھارت بھر بھگت سنگھ اور سبھاش چندر بوس کو تحریک آزادی کاہیرو مانا جاتا ہے، حالانکہ انگریزوں نے انہیں دہشت گردقراردیا تھا۔ یہاں تک کہ گاندھی نے بھی ان کی مسلح جدوجہد کی مخالفت کی تھی، جو کہ ایک طرح سے انہیںدہشتگرد قراردینے کے مترادف ہے ۔ تاہم آج پورا بھارت ان دونوں کو آزادی کے ہیرو کے طور پر یاد کرتا ہے۔دونوں کو برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت پر آزادی کا ہیرو قراردیاگیا،جو نہ صرف ان کی سرزمین پر قابض تھابلکہ اس نے عوام کے تمام حقوق سلب کر رکھے تھے ۔ گودی میڈیا بھگت سنگھ اور سبھاش چندر بوس کی مزاحمت کو تاریخ میں ایک جائز اور اخلاقی جدوجہد کے طورپرپیش کرتاہے۔ تاہم غیر ملکی تسلط سے آزادی کی فلسطینیوں اور کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد آزادی کو مسلح مزاحمت یاعسکریت پسندی قراردیاجارہاہے۔فلسطینی سر زمین پر قابض صیہونی ریاست کے مظالم کے خلاف مظلوم فلسطینیوں مزاحمت پر مجبور ہوئے اور اسی تناظر میں حماس نے اپنے راستہ کا انتخاب کیا۔ گودی میڈیا کے تضاد کا یہ پہلا نکتہ ہے کہ اگر برطانوی استعمار کے خلاف مسلح جدوجہد بھارت کیلئے قابل فخر ہے، تو کشمیریوں اور فلسطینیوں کی مزاحمت کو فورا دہشتگردی کیوں قرار دیا جاتا ہے؟جموں وکشمیر گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے ایک ایسے نظام کے زیرِ قبضہ ہے جس کا فکری ماڈل صیہونی ریاست سے مشابہ ہے۔ دونوں مقبوضہ ریاستوں میں بنیادی مسئلہ مذہب نہیں، بلکہ غیر ملکی تسلط اور سیاسی حقوق سے محرومی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھگت سنگھ اورچندر بوس برطانوی قبضے کے خلاف جدوجہد پر ہیروقرارپائے ہیںتو کشمیری بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کر سکتے اورانہیں عسکریت پسند کیوں قراردیاجاتا ہے؟گودی میڈیا سبھاش چندر بوس کو اس لیے سراہتا ہے کہ انہوں نے برطانوی سامراج سے آزادی کیلئے ایک مسلح فورس تشکیل دی تھی تاہم جب کوئی کشمیری سیاسی اختلاف بھی کرے تو گودی میڈیا ملک دشمن اور ایک خطرے کے طورپر پیش کرتا ہے۔اسی طرح بھگت سنگھ کے اسمبلی میں بم پھینکنے کو انقلابی پیغام کہا جاتا ہے، لیکن گودی میڈیا کشمیریوں کے سیاسی مطالبات کو انتہاپسندی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ہندوتوا بی جے پی کے زیر اثر گودی میڈیا کا کھلا تضاد یہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کو ہیرو، مگر کشمیریوں کی ہر قسم کی مزاحمت کو دہشتگردی قرار دیا جاتا ہے۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال خود اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ یہاں مزاحمت کیوں موجود ہے۔اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں ہر قوم کو انکے حق خودارادیت کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ اگر کشمیریوں کوان کا یہ بنیادی حق نہیں دیا جاتا تو کیا وہ خاموش بیٹھ کر ظلم سہتے رہیں گے؟ سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے باوجود ان کی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینا نہ صرف تاریخ کے ساتھ ایک دھوکہ بلکہ عالمی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔








