ہریانہ: نوح میں مسلمانوں کے گھروں ، مساجد پر پولیس کے چھاپے

چندی گڑھ: نئی دلی میں حالیہ کار بم دھماکے بعد ریاست ہریانہ کے ضلع نوح میں پولیس نے مسلمانوں کے گھروں ، مساجد اور کام والی جگہوں پر بڑے پیمانے پر چھاپوں اور تفتیشی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پولیس کی ظالمانہ کارروائیوں کی وجہ سے مسلمان سخت پریشان ہیں اور انکاکہنا ہے کہ انہیں صرف اور صرف اپنی شناخت کی بنیاد پر مشتبہ سمجھا جا رہا ہے۔ نوح ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے ، ایک مخصوص آبادی کو نشانہ بنانے کی پولیس کی کارروائی پر سولات اٹھا دیے ہیں۔نوح کے مسلمانوں کا کہنا ے کہ اس کارروائی سے وہ سخت دباﺅ کا شکار ہیں۔
شاہد علی نامی ایک شہری نے کہا کہ ہماری مساجداور مدارس عبادت اور تعلیم کے مقامات ہیں، صرف مسلم مقامات ہی کی چیکنگ کیوں کی جا رہی ہے ، اس سے ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں مشکوک سمجھا جا رہا ہے ، ایک مسلمان جو پیشے کے لحاظ سے معلم ہیں ، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ انصاف نہیں ہے ، لوگ خوفزدہ ہیں، چھاپوں اور پوچھ گچھ کی کارروائیوں سے پولیس اور مسلمان کے درمیان عدم اعتماد بڑھ جائے گا۔ ایک ریٹائرڈ استاد عبدالرحمان نے بتایا کہ مسلمان نوجوان پہلے ہی نوکریوں اور رہائش میں امتیاز کا شکار ہیں ، اب تو ہماری عبادت گاہوں کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے ، یہ تکلیف دہ ہے۔





