بھارت

بھارتی میڈیا نے اجیت ڈوول کے جھوٹ کا پول کھول دیا

نئی دہلی: بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اورنریندرمودی کے قریبی ساتھ اجیت ڈوول کا جھوٹ پکڑاگیاجنہوں نے 2014 میں ایک بیان میں کہاتھا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کی طرف سے جاسوسی کی کارروائیوں کے لیے بھرتی کیے گئے بھارتیوں کی اکثریت مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہندوئوں کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 10نومبر کو نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب دھماکے کے تناظر میں جس میں کم از کم 13افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، سوشل میڈیا پرایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اجیت ڈوول واضح طورپرکہہ رہے ہیں کہ آئی ایس آئی نے بھارت میں جاسوسی کے لیے جتنے افراد کو بھرتی کیا ہے ان میںمسلمانوں سے زیادہ ہندو ہیں۔ اگر آپ 1947سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور انسداد جاسوسی قانون کے تحت درج تمام مقدمات کو دیکھیںجو4ہزارسے زیادہ ہیں، شایدان میں 20فیصد بھی مسلمان نہیں ہوں گے۔یہ ویڈیو کلپ میلبورن میں آسٹریلیا انڈیا انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شائع کردہ ایک طویل ویڈیو سے لی گئی ہے، جہاں اجیٹ ڈووال نے 11مارچ 2014کو”عالمی دہشت گردی کا چیلنج”کے عنوان سے ایک تقریب سے خطاب کیاتھا۔آج 11سال بعدسوشل میڈیاپریہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سی این این نیوز18نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ اجیت ڈوول نے ان سے براہ راست بات کی اوراس ویڈیو میںدکھائے گئے بیان کی تردیدکرتے ہوئے اسے جعلی قراردیا۔ اجیٹ ڈوول نے کہاکہ یہ بیان پاکستان کی آئی ایس آئی کے بارے میں نہیں بلکہ آئی ایس آئی ایس کے بارے میں تھا۔اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ اجیت ڈوول نے ویڈیو میں آئی ایس آئی ایس کا ذکر نہیں کیا بلکہ وہ واضح طورپرکہہ رہے ہیں کہ تاریخی طوپر مسلمانوں کے مقابلے میں بھارتی ہندوئوں کوپاکستان کی جاسوسی کارروائیوں کے لیے بہت زیادہ بھرتی کیا گیا ہے۔ دہلی دھماکے کے بعد اقلیتوں کو مورد الزام ٹھہرانے کے رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے 35سیکنڈ کی اس کلپ کو بہت سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر شیئر کیا۔ سی این این نیوز18کے مطابق اجیت ڈوول نے کہا کہ اس طرح کے میڈیا ٹولز کا استعمال اکثر قومی سلامتی سے متعلق معاملات کو مسخ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور جو کلپس گردش کر رہی ہیں وہ بھارت کے انسداد دہشت گردی کے بیانیے کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔آلٹ نیوز نے بیان کی تہہ تک پہنچنے کے لئے تحقیقات شروع کی تو پتہ چلا کہ ویڈیو جعلی نہیں بلکہ اصلی ہے اور واقعی اجیٹ ڈوول نے یہ بیان دیا ہے۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ آسٹریلیا انڈیا انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام 11مارچ 2014کو گلوبل چیلنجز سیریز کے ایک حصے کے طور پر ایک لیکچر میں ڈوول نے کہا کہ بھارت میں آئی ایس آئی میں بھرتی ہونے والوں میں ہندوئوں کی تعداد مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہے۔اس سلسلے میں آلٹ نیوز کی ویب سائٹ پر شنجینی مجمدر کی مکمل رپورٹ پڑھی جاسکتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button