سنبھل مسجد تنازعہ سے بھارت میں مسلمانوں پر جاری ریاستی ظلم و تشدد اور عدالتی تعصب ایک بار پھر نمایاں
مسجد کے سروے کے دوران جھڑپوں میں 5مسلمانوں شہید ہوئے تھے
نئی دلی:
بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں گزشتہ سال نومبر میں پیش آنے والے خونریز واقعے نے بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی اظلم و جبر ور عدالتی تعصب کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عدالتی حکم پر سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے بعد پرتشدد جھڑپوں میں 5 مسلمان جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ گزشتہ روز اس واقعے کی تحقیقات کیلئے تشکیل دئے گئے انکوائری پینل نے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو پیش کی ہے ۔ رپورٹ میں مسجد کی جگہ پر ہندو مندر "ہری ہر مندر”کے آثار موجود ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ عدالتی کمیشن کی حیثیت سے پیش کی گئی رپورٹ میں مسلمانوں کے تحفظات اور شواہد کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایک مخصوص بیانیے کو فروغ دیاگیا ہے۔ اس رپورٹ پر اقلیتی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار کیاگیا ہے۔ متعدد سماجی کارکنوں اور ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ایک منظم ایجنڈے کا حصہ ہے جو مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور تاریخی ورثے کو مٹانا کی ایک گمراہ کن سازش ہے ۔
واضح رہے کہ بھارت میں سنبھل جامع مسجد پر تنازعہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے مقدس مذہبی مقامات کو منہدم کرنے کا سلسلہ 6دسمبر 1992میں بابری مسجد کی شہادت سے شروع ہوا تھا، جب ہندو انتہا پسندوں نے تاریخی مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ اس کے بعدہندو انتہاپسندوں کی طرف سے گیانواپی، اجین، پانی پت اور فتح پور سمیت کئی مسلم عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔رواں ماہ فتح پور کے علاقے ابو نگر میں 200ال پرانے ایک مسلم مقبرے پر زعفرانی جھنڈا لہرا کر اس کی بے حرمتی کی گئی، جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کے واقعات پر ریاستی ادارے نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اکثر ان واقعات کی پشت پناہی کی جاتی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے اپنی ہندوتواپالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو یہ ملک کے جمہوری اور سیکولر ڈھانچے کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو ں گی۔ سنبھل مسجد کا واقعہ ایک ایسا المیہ ہے جو نہ صرف اقلیتوں کے تحفظ بلکہ بھارتی عدلیہ اور حکومت کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھاتا ہے ۔







