مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اداروں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے پرسیاسی جماعتوں کی بی جے پی پر تنقید

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سیاسی جماعتوں نے ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں صرف ہندوئوں کو داخلہ دینے کے مطالبے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ پیشہ ورانہ اداروں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ ردعمل میرٹ پرغیر ہندو امیدواروں کے لئے ایم بی بی ایس کی 42نشستیں مختص کرنے پر اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کی قیادت میں بی جے پی کے ایک وفد کی طرف سے احتجاج کے لیے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ بی جے پی پر پوری وادی میں شدید تنقیدکی جارہی ہے اور پارٹیوں نے خبردار کیا ہے کہ بی جے پی کی تقسیم کی سیاست مقبوضہ جموں وکشمیرکو فرقہ وارانہ انتشارکی طرف دھکیل رہی ہے۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے کہا کہ بی جے پی ایسے اداروں میں مذہبی تعصب پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جنہیں غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ جب آپ اداروں کو فرقہ وارانہ بناتے ہیں، تو آپ صرف سیاست نہیں کر رہے ہوتے بلکہ معاشرے کو تقسیم کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہسپتال، اسکول اور میڈیکل کالج عقیدے کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگے تو ہم کیسا ملک بنیں گے؟تنویرصادق نے بی جے پی کے مطالبے کوگمراہ کن اور خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مقدس مقام کے فنڈزسے چلنے والا ادارہ مذہبی ادارہ نہیں بنتا۔بی جے پی براہ کرم ہمارے اداروں کو مذہب کے میدان جنگ نہ بنائے۔انہوں نے کہا آپ ایک ٹائم بم لگا رہے ہیں جو ایسی تقسیم پیدا کرے گا جسے کوئی بھی ٹھیک نہیں کر سکے گا۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی نے کہا کہ یہ تنازعہ”نیا کشمیر”کی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اب تعلیم تک پھیل چکاہے۔ انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ مسلم دشمن نسل پرستی بھارت کے واحد مسلم اکثریتی علاقے میں کی جا رہی ہے۔بی جے پی کے وفد نے ایل جی سے ملاقات کے دوران دعوی کیا کہ بڑی تعداد میں غیر ہندوامیدواروں کے داخلے سے عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ تاہم سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کا موقف مقبوضہ جموں وکشمیرمیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر اداروں کی تشکیل نو کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے تاکہ میرٹ، مساوات، اور تعلیم کے سیکولر کردار کو مجروح کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ داخلوں میں مذہبی امتیازات مسلط کرنے کی کوشش مقبوضہ علاقے میں مودی حکومت کی امتیازی پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔






