مقبوضہ جموں وکشمیر میں مساجد اور مدارس کے خلاف کارروائیاں تیز، مذہبی آزادی کو خطرہ لاحق

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے مساجد اور مدارس سمیت مذہبی اداروں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سرینگر میں نام نہاد دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے بہانے درجنوں مساجد اورمدارس میں گھس کر ان کا معائنہ کیا۔چھاپوں کے دوران ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر موادکا معائنہ کیا گیا ۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات بنیاد پرستی سے نمٹنے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا حصہ ہیں۔لیکن یہ کارروائیاں کشمیریوں کے لیے ایک نئی تبدیلی کا اشارہ ہیں ۔ مساجدکی کمیٹیوں اور مدرسوں کے بورڈز کو خدشہ ہے کہ یہ کارروائیاں اداروں پر جبری قبضے یا ان کوبند کرانے کا پیش خیمہ ہوسکتی ہیںجس سے نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ کمیونٹی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچے گا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مقبوضہ علاقے میں حالات معمول کے مطابق ہونے اور جمہوری فضاقائم ہونے کے دعوئوں کے بالکل برعکس ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے اقدامات مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کے بجائے مذہبی معاملات میں مداخلت کی عکاسی کرتے ہیں جہاںمذہبی اور شہری اداروں کو کمیونٹی کے اثاثوں کی بجائے سیکورٹی کے لئے خطرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔کشمیریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مساجد اورمدارس کے خلاف کارروائیوں کوبند نہ کیا گیا تو اسے مذہبی آزادی مزید سلب ہوگی، عبادات اور اجتماع کی آزادی ختم ہوگی اوربھارت کے خلاف لوگوں کی نفرت مزید بڑھ جائے گی۔






