گوہاٹی ہائی کورٹ ، مسلم رکن اسمبلی امین الحق کی گرفتاری کالعدم قرار، رہائی کا حکم جاری

امین الحق کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ کا استعمال غیر قانونی اور غیر آئینی تھا، ہائی کورٹ
گوہاٹی:
بھارتی ریاست آسام کی گوہاٹی ہائی کورٹ نے ریاستی اسمبلی کے مسلم رکن امین الحق اسلام کی غیر قانونی گرفتاری کالعدم قرار دیتے ہوئے انکی رہائی کا حکم جاری کیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عدالت نے اپنی فیصلے میں کہا کہ امین اسلام کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ کا استعمال غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔ یہ فیصلہ بھارتی حکومت کیلئے واضح پیغام ہے کہ مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے طاقتور قانون کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔مودی حکومت نے اپوزیشن کے رکن اسمبلی امین الاسلام کونیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت مہینوں تک جیل میں قیدرکھا گیا۔ آخرکار گوہاٹی ہائی کورٹ نے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے اس حکم کوردی کی ٹوکری کی نذر کردیا۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ مودی کی بھارتی حکومت پریونٹو حراست جیسے قوانین کوملک میں اختلاف رائے کودبانے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔امین اسلام کورواں سال 24اپریل کو ایک سیاسی جلسے سے خطاب کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس جلسے میں انہوں نے 22اپریل کو پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کوووٹ حاصل کرنے کی مودی کی بی جے پی حکومت کی ایک سازش قرار دیا تھا۔امین اسلام کو بھارتی سازش کوبے نقاب کرنے پر بی این ایس سیکشن 152کے تحت گرفتار کیا گیا، جو بھارت کی خودمختاری، وحدت اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے جیسے الزامات سے متعلق ہے ۔ضمانت پر رہائی کے عدالتی حکم پر انہیں اسی دن ظالمانہ نیشنل سکیورٹی ایکٹ 1980 کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔اگرچہ ان کے خلاف کوئی نیا جرم سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی سرکار کے ہندوتوا نظام میںاین ایس اے کا استعمال اختلاف رائے کودبانے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پرکیاجارہاہے ۔گوہاٹی ہائی کورٹ نے این ایس اے کے تحت امین الاسلام کی گرفتاری کو کالعدم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکام نے ان کے آئینی حق کی خلاف ورزی کی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق امین اسلام کی گرفتاری اور ان پر عائد الزامات کو ریاستی انتقام کاواضح ثبوت ہیں ۔ یہ ریاستی انتقام کی کارروائی اور بہار انتخابات سے پہلے ایک مزاحمت کرنے والی آواز کو خاموش کرانے، اسے ایک ظالمانہ قانون کے تحت جیل میں ڈالنے کی ایک واضح کوشش تھی ۔اس واقعے سے بھارت میں مودی کے ہندوتوا دورِ حکومت میں ایک خطرناک نظیر قائم ہوئی ہے۔ ریاست سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کے لیے قوانین کو ہتھیار بنا رہی ہے، جس سے شہری آزادیوں، اختلاف رائے کے جمہوری حق اور خصوصا مسلم اقلیتوں اور اپوزیشن کی آوازوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔







