بھارت

تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو 33برس بیت گئے

مسجد کی مسماری عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی علامت ہے، پاکستان

بابری مسجد کی شہادت پر مسلمانوں کے دل آج بھی سخت رنجیدہ ہیں، حریت رہنما


اسلام آباد:بھارت میں ریاستی اداروں کی سرپرستی میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو آج 33برس ہو گئے ہیں۔اس سانحے پر امت مسلمہ کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی ہندوتوا تنظیموں کے ہزاروں غنڈوں ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں16ویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو 1992 میں آج ہی کے دن شہید کردیا تھا۔ تاریخی مسجد کی شہادت کا یہ افسوسناک واقعہ آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔بابری مسجد کے انہدام سے زیادہ اذیت ناک بات خود بھارتی اعلیٰ عدلیہ کا جانبدارانہ کردار ہے جس نے نومبر 2019 میں ہندوو¿ں کو تاریخی مسجد کے مقام پر مندر بنانے کی اجازت دی ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے نہ صرف ہندوتوا نظریے کو ترجیح بلکہ اس نے ایل کے ایڈوانی جیسے بی جے پی کے شدت پسند رہنماﺅں کو بھی مسجد کی مسماری کے مقدمے سے بری کر دیا۔ ہندو انتہا پسند غنڈوں ن ے بابری مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج اور مزاحمت کرنے والے سینکڑوں مسلمانوں کو بھی شہید اور ہزاروں کو زخمی کردیاتھا۔
پاکستان نے بابری مسجد کی شہادت کے 33 سال مکمل ہونے پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے،6 دسمبر 1992 کا واقعہ آج بھی دکھ اورتکلیف کا باعث ہے،بابری مسجد کی مسماری عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی علامت ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مذہبی ورثے کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے کے واقعات پر شفاف احتساب ضروری ہے ، کسی بھی عبادت گاہ کی بے حرمتی مذہبی مساوات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان مسلسل عدم تحفظ اور ذہنی تکلیف کا شکار ہیں،،پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پ±رامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری مسلمانوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے،پاکستان اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق اور مذہبی رواداری کو یقینی بنائے۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماﺅں اور تنظیموں نے سرینگر میں جاری اپنے بیانات میںکہا کہ 33برس قبل بی جے پی ،آر ایس ایس اوردیگر ہندو توا تنظیموں کے بلوائیوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت پر مسلمانوں کے دل آج بھی سخت مغموم اور رنجیدہ ہیں۔حریت رہنماﺅں نے کہا کہ بھارتی حکمران جماعت بی جے پی ایک فسطائی نظریے پرعمل پیرا ہے جو بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے کے درپے ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ گجرات کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ جب سے بی جے پی بھارت میں برسر اقتدار آئی ہے تب سے بھارت کی تمام اقلیتیں خصوصا مسلمانوں کی بالخصوص زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ مسلمانوں کاقتل عام جاری ہے اور انکی مساجد کو شہید کیاجارہاہے ۔حریت رہنماﺅں اور تنظیموں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی ہند و توا بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھی مکمل طور پر ہندو توا کے رنگ میں رنگنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔وہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری اوراقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ بھارت میں مسلمانوں اور کشمیریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button