وادی کشمیر میں جاری پکڑدھکڑ کے دوران 200سے زائد کشمیری گرفتار

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسزنے اپنی تازہ ظالمانہ کارروائیوں کے دوران 200سے زائدکشمیری نوجوانوں کو گرفتارکر لیا ہے جنہیں اوور گرانڈ ورکرز کا نام دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر سمیت وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میںہفتے کو شروع کی گئی پکڑدھکڑ کاسلسلہ اتوار کی صبح بھی جاری رہا۔ مربوط چھاپوں کے دوران تقریبا 200نوجوانوں کو پوچھ گچھ کے نام پر گرفتار کیا گیااورگرفتارافراد کو اوورگرائوند ورکرز کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ اصطلاح بھارتی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عام کشمیریوں کی گرفتاری کو جواز فراہم کرنے کے لیے وضع کی ہے۔پولیس کے بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان گرفتاریوں کا مقصد آزادی پسند تنظیموںکے لیے امدادی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے، لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی لوگوں نے خبردارکیاہے کہ اس طرح کی نظر بندیوں سے مقبوضہ علاقے میں عام شہری متاثر ہوتے ہیں، خوف ودہشت کی فضا قائم ہوتی ہے اور بنیادی آزادیاں سلب ہوجاتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اوورگرائونڈ ورکرجیسی لیبل کا استعمال شفاف قانونی بنیاد یا مناسب قانونی کارروائی کے بغیر بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔یہ گرفتاریاںمقبوضہ علاقے میں جاری محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران کی گئیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران سینکڑوں چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کی گئیںاور لوگوںسے پوچھ گچھ کی گئی جو قابض حکام کی ایک وسیع حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری اور سیاسی حقوق کی پامالیوں کو مزید اجاگر کرتا ہے جہاں اکثر گرفتاریوں کو کالے قوانین کے ذریعے احتیاطی نظر بندی کے بہانے جائز قرار دیا جاتا ہے۔انہوں نے خبردارکیاکہ اس طرح کی کارروائیوں سے لوگوں میں بداعتمادی بڑھ جائے گی اور علاقے میں پہلے سے ہی نازک سماجی و سیاسی ماحول مزید ابترہوجائے گا۔





